اسلام آباد: پاکستان پانچ مقامی آئل ریفائنریز کے ساتھ طویل عرصے سے زیر التوا اپ گریڈیشن معاہدوں کو حتمی شکل دینے کی تیاری کر رہا ہے، جن کے تحت 6 ارب ڈالر سے زیادہ کی مجوزہ سرمایہ کاری سے پرانے پلانٹس جدید بنانے اور مقامی پیٹرول و ڈیزل پیداوار بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ جیو نیوز اور دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق متعلقہ ریفائنریز میں پارکو، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ، سینرجیکو اور اٹک ریفائنری شامل ہیں۔

حکومت نے انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز کو معاہدوں پر دستخط اور عملدرآمد کی نگرانی کا اختیار دیا ہے۔ اس سے پہلے اس عمل میں اوگرا کے کردار کی مختلف ترتیب زیر غور تھی۔ مجوزہ اپ گریڈز کا مقصد ریفائنری ٹیکنالوجی بہتر بنانا، زیادہ قدر والے صاف ایندھن کی پیداوار بڑھانا اور درآمد شدہ تیار پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنا ہے۔ ایک آئی ایس جی ایس عہدیدار کے مطابق جدید پلانٹس زیادہ اقسام کے خام تیل کو پراسیس کر سکیں گے، تاہم ایرانی یا روسی خام تیل کی ممکنہ پروسیسنگ متعلقہ قوانین اور بین الاقوامی پابندیوں کے تابع ہوگی۔

صنعتی ذرائع نے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ صرف معاہدوں پر دستخط سے سرمایہ کاری خود بخود نہیں آئے گی۔ اصل امتحان منصوبوں کی بینک ایبلٹی، قرض دہندگان کی منظوری، مالیاتی بندش اور سرمایہ کے حقیقی بہاؤ کا ہوگا۔ ریفائنری پالیسی کے تحت مراعاتی فنڈز کے لیے مشترکہ ایسکرو اکاؤنٹس کی جگہ زیادہ حکومتی کنٹرول والے اکاؤنٹس کی تجویز پر بھی صنعت میں خدشات رپورٹ ہوئے ہیں، کیونکہ فنانسرز فنڈز کی دستیابی اور تحفظ کو اہم سمجھتے ہیں۔

اس لیے 6 ارب ڈالر سے زائد رقم کو فوری طور پر موصول شدہ سرمایہ کاری نہیں بلکہ منصوبہ بند سرمایہ کاری کے حجم کے طور پر بیان کرنا درست ہے۔ اگر معاہدے مالیاتی بندش تک پہنچتے ہیں تو اپ گریڈیشن پاکستان کی ریفائننگ صلاحیت، ایندھن کے معیار اور درآمدی بل پر اہم اثر ڈال سکتی ہے۔ آئندہ تصدیق کے اہم مراحل دستخط شدہ معاہدوں کی تفصیل، ہر ریفائنری کا سرمایہ کاری منصوبہ، فنانسنگ اور تعمیراتی ٹائم لائن ہوں گے۔