پاکستان کے دفترِ خارجہ نے پنجاب کے ضلع نرووال میں واقع ہندو مندر کو دانستہ طور پر مسمار کیے جانے کے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمارت کو موسلا دھار بارش سے نقصان پہنچا تھا۔ ترجمان سجاد حیدر خان نے 4 ستمبر 2026 کو جاری بیان میں اڈا سراج کے مندر سے متعلق بھارتی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو ’’غلط اور سیاسی محرکات پر مبنی‘‘ قرار دیا۔
پاکستانی ترجمان کے مطابق مندر کی عمارت 21 جولائی 2026 کو شدید بارش کے باعث متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکام نقصان کا جائزہ لے چکے ہیں اور عمارت کی بحالی کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ دفترِ خارجہ نے بحالی کی متوقع مدت، منصوبے کی لاگت، ذمہ دار محکمہ یا ساختی سروے کی مکمل رپورٹ اپنے مختصر بیان میں جاری نہیں کی۔ اس لیے بحالی کے عملی مرحلے اور تکمیل کی تصدیق آئندہ سرکاری تفصیل سے ہوگی۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس سے قبل پاکستانی پنجاب میں ایک قدیم ہندو مندر کی مبینہ مسماری پر اعتراض کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور مذہبی اقلیتوں کے مقامات کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔ بھارتی اور بعض دوسری رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ سراج گاؤں میں ایک صدی سے زیادہ پرانی عمارت 21 اگست کو گرائی گئی اور اس کی زمین کو ملحقہ مدرسے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ہوئی۔ پاکستان نے اس بیان کردہ واقعاتی ترتیب اور دانستہ کارروائی کی نسبت سے اختلاف کیا ہے۔
بعض پاکستانی اقلیتی نمائندوں نے بھی عمارت کے نقصان پر سوال اٹھائے اور آزاد تحقیقات، اصل حالت میں تعمیرِ نو اور مقام کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ ان کے الزامات میں مذہبی عناصر کے کردار اور تعمیراتی مواد ہٹائے جانے کے دعوے شامل ہیں۔ یہ الزامات تاحال کسی مکمل سرکاری انکوائری، فرانزک رپورٹ یا عدالتی فیصلے سے ثابت شدہ نتیجہ نہیں؛ انہیں متعلقہ گروہوں کے مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
اسی طرح دفترِ خارجہ کی بارش والی وضاحت سرکاری مؤقف ہے۔ اسے مضبوط بنانے کے لیے ضلع انتظامیہ، ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ یا آثار و مذہبی املاک کے متعلقہ محکمے کی تاریخ وار معائنہ رپورٹ، تصاویر، انجینئرنگ assessment اور بحالی کا منظور شدہ منصوبہ اہم ہوں گے۔ دستیاب عوامی مواد میں پاکستانی سرکاری تاریخ 21 جولائی جبکہ بعض الزامی رپورٹس میں 21 اگست درج ہے، جو خود آزاد اور دستاویزی جانچ کی ضرورت ظاہر کرتا ہے۔
دفترِ خارجہ نے اپنے جواب میں بھارت پر حقائق مسخ کرنے اور اپنے ہاں اقلیتوں کی صورتِ حال سے توجہ ہٹانے کا الزام بھی لگایا۔ یہ پاکستان کا سفارتی ردعمل ہے اور اس سے نرووال عمارت کے مادی نقصان کی وجہ بذاتِ خود ثابت نہیں ہوتی۔ بھارت اپنے بیان میں پاکستان سے جواب دہی اور اقلیتی مذہبی ورثے کے تحفظ کا مطالبہ کر رہا ہے۔
مذہبی مقام سے متعلق تنازع میں بنیادی سوال تین ہیں: عمارت کس تاریخ اور کس فوری سبب سے گری یا متاثر ہوئی، کیا کسی فرد یا گروہ نے جان بوجھ کر نقصان پہنچایا، اور بحالی و قانونی تحفظ کس طریقے سے ہوگا۔ ان سوالوں کے حتمی جواب کے لیے مقامی انتظامیہ کی باقاعدہ تفتیش اور قابلِ جانچ ریکارڈ درکار ہے۔
فی الحال تصدیق شدہ نئی پیش رفت پاکستان کے دفترِ خارجہ کا 4 ستمبر کا ردعمل ہے، جس میں دانستہ مسماری کی بھارتی نسبت مسترد، بارش کو وجہ بتایا اور مقامی حکام کی جانب سے بحالی اقدامات شروع ہونے کا کہا گیا۔ دوسری جانب بھارتی حکومت اور بعض اقلیتی نمائندوں کے الزامات و تحقیق کے مطالبات برقرار ہیں؛ کسی فریق کے دعوے کو غیر منسوب حتمی حقیقت نہیں سمجھا گیا۔




