اسلام آباد: پاکستان کی خام غذائی اشیا کی برآمدات مالی سال 2027 کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 7.68 فیصد بڑھ گئیں، جس سے گزشتہ مالی سال کی منفی برآمدی سمت میں ابتدائی تبدیلی دیکھی گئی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مرتب کردہ اعداد کے مطابق اس اضافے میں چاول کی برآمدات کا نمایاں کردار رہا۔
اسی دو ماہ کے دوران غذائی درآمدات کی مالیت 2.23 فیصد بڑھ کر 1.503 ارب ڈالر ہوگئی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.470 ارب ڈالر تھی۔ درآمدات میں اضافے کا ایک حصہ دودھ کے پاؤڈر اور چائے کی زیادہ خریداری سے منسلک رہا۔ حکومت مقامی پیداوار کی کمی پوری کرنے کے لیے گندم درآمد کرنے کا منصوبہ بھی پہلے منظور کر چکی ہے۔
گزشتہ مالی سال 2026 میں پاکستان کا مجموعی غذائی درآمدی بل 11.66 فیصد بڑھ کر 9.150 ارب ڈالر ہوگیا تھا، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ 8.195 ارب ڈالر تھا۔ اس کے برعکس خام غذائی مصنوعات کی برآمدات مالی سال 2026 میں 29.49 فیصد کم ہو کر 5.017 ارب ڈالر رہ گئی تھیں، جو اس سے پچھلے سال 7.116 ارب ڈالر تھیں۔ اس پس منظر میں رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کا 7.68 فیصد اضافہ رجحان میں ابتدائی بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
مصنوعات کی سطح پر چاول کی برآمدی مالیت میں 24.68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ باسمتی چاول کی برآمدی قدر 53.03 فیصد اور نان باسمتی کی 9.99 فیصد بڑھی۔ مقدار کے لحاظ سے باسمتی کی برآمدات 42.91 فیصد اور نان باسمتی کی 14.74 فیصد بڑھیں۔ وزارت تجارت نے چاول کی برآمدی سبسڈی اسکیم 30 ستمبر تک بڑھائی اور کمزور عالمی طلب کا سامنا کرنے والے نان باسمتی برآمد کنندگان کے لیے مقامی ٹیکس و لیویز کی ڈیوٹی ڈرا بیک شرح بھی بڑھائی ہے۔
گوشت کی برآمدات میں 22.53 فیصد، مچھلی کی مصنوعات میں 3.23 فیصد، تمباکو میں 121 فیصد اور مصالحہ جات میں 8.29 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔ دوسری جانب سبزیوں کی برآمدات 27.28 فیصد اور پھلوں کی 36.42 فیصد کم ہوئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی بہتری تمام غذائی شعبوں میں یکساں نہیں رہی۔
درآمدی جانب پام آئل غذائی درآمدات میں سب سے بڑا حصہ رکھتا رہا، تاہم اس کی درآمدی مالیت 1.41 فیصد اور مقدار 13.40 فیصد کم ہوئی۔ دالوں کی درآمدات 23.84 فیصد جبکہ سویا بین آئل کی درآمدی مالیت 99 فیصد گھٹ گئی۔ اس کے برعکس چائے کی درآمدات 28.74 فیصد اور دودھ سے بنی مصنوعات کی درآمدات 20.41 فیصد بڑھیں۔ ابتدائی دو ماہ کے اعداد پورے مالی سال کے نتیجے کی ضمانت نہیں، لیکن تجارت کی موجودہ سمت کا تازہ اشاریہ فراہم کرتے ہیں۔
