اسلام آباد: پاکستان کو مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، میں غیر ملکی معاشی معاونت کی مد میں 1.703 ارب ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 1.377 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 24 فیصد زیادہ ہیں۔ ڈان نے وزارت اقتصادی امور کے اعداد کے حوالے سے بتایا کہ ان رقوم میں قرضے اور گرانٹس شامل ہیں، تاہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رقوم اس حساب میں شامل نہیں۔
اگست میں مجموعی آمد 940 ملین ڈالر رہی، جو ایک سال پہلے کے 680 ملین ڈالر سے 38 فیصد زیادہ ہے۔ جولائی میں 764 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ گزشتہ سال جولائی میں یہ رقم 697 ملین ڈالر تھی۔ اضافے میں 300 ملین ڈالر کا کمرشل قرض اور بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں زیادہ سرمایہ کاری اہم عوامل رہے۔
نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں دو ماہ کے دوران سرمایہ کاری تقریباً 73 فیصد بڑھ کر 630 ملین ڈالر ہو گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 365 ملین ڈالر تھی۔ اس میں 182 ملین ڈالر روایتی اور 448 ملین ڈالر اسلامی سرٹیفکیٹس میں آئے۔ وزارت اقتصادی امور نے پہلی مرتبہ دونوں اقسام کے اعداد الگ الگ رپورٹ کیے ہیں۔
اس کے برعکس کثیرالجہتی اور دوطرفہ قرض دہندگان سے مجموعی رقوم 43.24 فیصد کم ہو کر 626 ملین ڈالر رہیں۔ دوطرفہ ذرائع سے آمد 85 فیصد کم ہو کر 35 ملین ڈالر جبکہ کثیرالجہتی ذرائع سے 24 فیصد کمی کے بعد 591 ملین ڈالر رہی۔
حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 24 ارب ڈالر کی غیر ملکی معاشی معاونت کا بجٹ ہدف رکھا ہے۔ وزارت کے مطابق پہلے دو ماہ کی 1.7 ارب ڈالر آمد میں 485 ملین ڈالر منصوبہ جاتی فنانسنگ اور 1.22 ارب ڈالر غیر منصوبہ جاتی رقوم تھیں۔ اعداد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی آمد میں اضافہ ہوا، مگر اس کی ساخت میں کمرشل قرض اور سرٹیفکیٹس کا کردار بڑھا جبکہ روایتی دوطرفہ و کثیرالجہتی رقوم کم ہوئیں؛ اس لیے صرف مجموعی اضافے کو تمام بیرونی فنانسنگ ذرائع میں یکساں بہتری نہیں سمجھا جا سکتا۔

