اسلام آباد: دفترِ خارجہ نے ایران پر نئی امریکی پابندیوں کے تناظر میں کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار عالمی رکن کے طور پر بین الاقوامی اور ملکی قانون کے مطابق تمام ”قابلِ اطلاق پابندی نظاموں“ کی پابندی کرتا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ یہ بیان ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے جمعرات کی ہفتہ وار بریفنگ میں دیا۔
ڈان کے مطابق ترجمان نے واضح نہیں کیا کہ حکومت کن پابندیوں کو پاکستان کے لیے ”قابلِ اطلاق“ سمجھتی ہے۔ اخبار نے اس نئی زبان کو پاکستان کے سابق مؤقف کے مقابلے میں زیادہ وسیع قرار دیا، جہاں زور بین الاقوامی قانون اور ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدوں پر تھا۔ تاہم اس بیان کو امریکی یکطرفہ پابندیوں کو خودکار طور پر پاکستان پر قانونی طور پر لازم ماننے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ترجمان نے اطلاق کو بین الاقوامی اور ملکی قانون سے مشروط کیا۔
دفترِ خارجہ نے ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو ”دیرپا اور کثیرالجہتی اسٹریٹجک شراکت داری“ قرار دیا اور کہا کہ اسلام آباد واشنگٹن کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی روابط مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان قواعد پر مبنی عالمی نظام، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی قانون کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
ایران کے حوالے سے پاکستان نے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت برقرار رکھی ہے۔ سجاد حیدر خان کے مطابق اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقوں کو تحمل، بات چیت اور اپنے وعدوں کی پاسداری پر زور دیتا رہے گا۔ انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو اختلافات کے پرامن حل کے لیے اہم فریم ورک قرار دیا۔
ڈان نے مالیاتی پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی ثانوی پابندیاں ان غیر امریکی مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کے لیے عملی خطرات پیدا کر سکتی ہیں جو امریکی مالیاتی نظام، ڈالر کلیئرنگ یا بین الاقوامی بینکاری نیٹ ورک تک رسائی پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے نہ تو ایران کے ساتھ تجارت کی مکمل معطلی کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی باضابطہ طور پر امریکی پابندی مہم میں شمولیت کا فیصلہ بتایا ہے۔
تازہ بیان اس لیے اہم ہے کہ یہ قانونی اطلاق، مالیاتی خطرات اور پاکستان کے ایران و امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات کو ایک ہی پالیسی فریم میں رکھتا ہے۔ آئندہ کسی عملی تبدیلی کا تعین حکومتی یا مرکزی بینک کے باضابطہ اقدامات، تجارتی ہدایات اور مالیاتی ضوابط سے ہوگا؛ فی الحال دفترِ خارجہ کا اعلان عمومی اصول اور سفارتی مؤقف تک محدود ہے۔
