پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 18 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں بڑھ کر 26 ارب 81 کروڑ 6 لاکھ ڈالر، یعنی 26.8106 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ہفتہ وار اعدادوشمار کے مطابق مرکزی بینک کے اپنے ذخائر 21.4003 ارب ڈالر تک پہنچے، جو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر کی بلند ترین سطح ہے۔

ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 1 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی کرنسی کے ذخائر 80 لاکھ ڈالر بڑھ کر 5.4103 ارب ڈالر ہو گئے۔ یوں مرکزی بینک اور تجارتی بینکوں کے مجموعی ذخائر میں معمولی مگر مثبت اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس سے ایک ہفتہ پہلے، 11 ستمبر 2026 کو پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26.7912 ارب ڈالر تھے۔ اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس 21.389 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5.4022 ارب ڈالر موجود تھے۔ تازہ اعدادوشمار کے مطابق دونوں حصوں میں اضافہ ہوا ہے، اگرچہ ہفتہ وار تبدیلی کا حجم مجموعی ذخائر کے مقابلے میں محدود ہے۔

زرمبادلہ ذخائر کسی ملک کی بیرونی ادائیگیوں، درآمدات، قرضوں کی ادائیگی اور کرنسی مارکیٹ میں اعتماد کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم صرف ذخائر کی مجموعی سطح سے بیرونی شعبے کی مکمل صحت کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کے ساتھ درآمدی بل، برآمدی آمدن، ترسیلات زر، بیرونی قرضوں کی واجبات اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو بھی دیکھا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کے ذخائر بین الاقوامی قرض پروگراموں، دوست ممالک کی معاونت، کمرشل فنانسنگ اور جاری کھاتے میں تبدیلیوں سے متاثر ہوتے رہے ہیں۔ اس لیے ہفتہ وار اضافہ ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، لیکن اس کے پائیدار اثر کا اندازہ تبھی ہو گا جب آنے والے ہفتوں میں ذخائر کی سمت، بیرونی ادائیگیوں اور کرنٹ اکاؤنٹ کے اعدادوشمار کو بھی ساتھ دیکھا جائے۔

تازہ اعدادوشمار سرکاری ہفتہ وار پوزیشن کی عکاسی کرتے ہیں اور ان میں کمرشل بینکوں کے ذخائر الگ دکھائے گئے ہیں۔ یہ اعداد 18 ستمبر تک کی صورت حال بیان کرتے ہیں، نہ کہ 24 ستمبر کے اختتام تک کی کسی نئی تبدیلی کو۔