اسلام آباد: پاکستان میں بڑھتی ایندھن قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہدفی فیول ریلیف اسکیم سے 90 لاکھ سے زائد کم آمدنی افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اسکیم میں اہل موٹر سائیکل سواروں، رکشہ آپریٹرز اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رعایت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ محدود کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ پروگرام کو شہریوں کے لیے آسان اور تیز رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ ملک گیر سطح پر ٹیکنالوجی کے ذریعے ہدفی فیول امداد پہنچانے کی پہلی بڑی کوشش ہے۔ اہل صارفین کو موبائل فون پر ٹوکن موصول ہوتا ہے، جسے شریک پیٹرول پمپ پر تصدیق کے بعد رعایت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کے مطابق 90 لاکھ سے زیادہ افراد اس پروگرام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے اہل صارفین کو ہفتہ وار 500 روپے تک رعایت دی جاتی ہے اور ایک ماہ میں زیادہ سے زیادہ چار ٹوکن مل سکتے ہیں، یوں ماہانہ مدد دو ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے اہل مالکان کے لیے طریقہ مختلف ہے۔ انہیں دس دن میں ایک مرتبہ دس لیٹر تک پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے رعایت مل سکتی ہے اور ایک ماہ میں تین ٹوکن تک دستیاب ہوتے ہیں، جس سے زیادہ سے زیادہ ماہانہ بچت تین ہزار روپے بنتی ہے۔

حکومت نے یہ پروگرام ایسے وقت میں نافذ کیا ہے جب علاقائی جنگ اور عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی نے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور روزمرہ اخراجات بھی متاثر ہوتے ہیں، اس لیے اسکیم کا بنیادی ہدف ان افراد کو محدود مالی سہارا دینا ہے جن کی روزی یا روزانہ آمدورفت براہ راست موٹر سائیکل، رکشہ یا چھوٹی گاڑی سے وابستہ ہے۔

یہ رعایت مکمل ایندھن خرچ کی ادائیگی نہیں بلکہ مخصوص مقدار اور مقررہ وقفوں تک محدود مدد ہے۔ اہل صارف کو مقررہ حد سے زائد سفر یا خریداری کے لیے مارکیٹ کی موجودہ قیمت ادا کرنا ہوگی۔ پروگرام کی افادیت کا انحصار اہل افراد کی درست شناخت، ڈیجیٹل تصدیق اور شریک پیٹرول پمپس پر شفاف عمل درآمد پر رہے گا۔