اسلام آباد: پاکستان کی اشیائی برآمدات رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ، جولائی سے اکتوبر، کے دوران سالانہ بنیاد پر 8.52 فیصد بڑھ کر تقریباً 11.34 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کی بنیاد پر ڈان اور ریڈیو پاکستان کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں برآمدی آمدن تقریباً 10.45 ارب ڈالر تھی۔
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی چار ماہ کی برآمدات میں اضافہ ہوا، تاہم اکتوبر میں رفتار نسبتاً محدود رہی۔ ڈان کے مطابق اکتوبر 2026 میں برآمدی آمدن تقریباً 2.93 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اکتوبر کے تقریباً 2.85 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.84 فیصد زیادہ ہے۔ اس طرح چار ماہ کی مجموعی شرح نمو کے مقابلے میں اکتوبر کی سالانہ رفتار نمایاں طور پر کم رہی۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ اور یورپی منڈیوں میں برآمدی نمو پر دباؤ دیکھا گیا ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ تجارت کی بندش نے بھی ایک اہم برآمدی منڈی کو متاثر کیا۔ یہ عوامل اس وقت اہم ہیں جب حکومت برآمدات بڑھانے اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے کے لیے مختلف پالیسی اقدامات پر کام کر رہی ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں سمیت برآمد کنندگان کے لیے سہولتیں بڑھانے کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ برآمدی شعبے کی جانب سے توانائی کی بلند لاگت اور کاروباری اخراجات کو مسابقت کے لیے اہم رکاوٹوں کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں برآمدات کی 8.52 فیصد مجموعی نمو مثبت پیش رفت ہے، لیکن ماہانہ رفتار میں کمی پالیسی سازوں کے لیے ایک الگ اشارہ فراہم کرتی ہے۔
اشیائی برآمدات کے یہ اعداد خدمات کی برآمدات سے الگ ہیں، اس لیے دونوں شعبوں کی کارکردگی کو ایک ہی پیمانے پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ تازہ سرکاری اعدادوشمار یہ بتاتے ہیں کہ مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں بیرونی اشیائی فروخت بڑھی ہے، مگر برآمدی رفتار، منڈیوں تک رسائی اور پیداواری لاگت کے مسائل بدستور پالیسی بحث کا حصہ ہیں۔ آئندہ مہینوں کے اعدادوشمار سے واضح ہوگا کہ اکتوبر کی سست رفتار عارضی تھی یا وسیع رجحان کی علامت۔
