وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت گوگل ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ کے دوران پاکستان اور گوگل نے قومی ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ ایکسپریس اردو کے مطابق تعاون کا دائرہ ڈیجیٹل مہارتوں، آئی ٹی برآمدات، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرکاری خدمات میں ٹیکنالوجی کے استعمال تک پھیلا ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام کو وسعت دینے اور 2026 میں پاکستان کے لیے ایک لاکھ پچاس ہزار سرٹیفکیٹس کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پاکستانی طلبہ کو ایک سال کے لیے گوگل اے آئی پلس اور جیمنی سمیت جدید اے آئی ٹولز تک مفت رسائی دینے پر بھی اتفاق ہوا۔ یہ اہداف مفاہمتی فریم ورک کا حصہ ہیں؛ ہر پروگرام کی اہلیت، اندراج اور عمل درآمد کی تفصیلی شرائط الگ سرکاری اعلان میں واضح ہونا باقی ہیں۔
اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے کے لیے تعاون بھی طے پایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مرکز نوجوانوں اور انسانی وسائل کو عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت دینے پر توجہ دے گا۔ موبائل ایپلی کیشنز، گیمنگ، ڈیجیٹل تجارت اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی عالمی منڈیوں تک رسائی بھی تعاون کے بیان کردہ شعبوں میں شامل ہے۔
سرکاری شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور ڈیٹا اینالیٹکس کا ذکر کیا گیا ہے۔ زراعت میں فصلوں کی نگرانی، پیش گوئی اور پائیدار طریقوں کے لیے بھی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی بات ہوئی۔ مفاہمتی یادداشت کسی مخصوص ٹیکس فیصلے، خودکار حکومتی حکم یا زرعی پیش گوئی کی ضمانت نہیں؛ یہ تعاون کے منصوبہ جاتی دائرے کی نشاندہی کرتی ہے۔
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور مسابقتی صلاحیت کے لیے روڈ میپ بنانے کی غرض سے حکومت، گوگل اور متعلقہ فریقوں پر مشتمل ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ بھی رپورٹ ہوا۔ اس فورس کا کام رکاوٹوں اور ترقی کے مواقع کی نشاندہی کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم کے 2030 تک ڈیجیٹل معیشت اور آئی ٹی برآمدات کو تیس ارب ڈالر تک پہنچانے کے وژن کا ذکر حکومتی ہدف کے طور پر کیا گیا ہے، حاصل شدہ نتیجے کے طور پر نہیں۔
اگلا اہم مرحلہ نفاذی ٹائم لائن، مالی ذمہ داریوں، ڈیٹا تحفظ، پروگرام اہلیت اور قابل پیمائش اہداف کی اشاعت ہوگا۔ اردو ہیڈ لائنز حکومت یا گوگل کی جانب سے رجسٹریشن، مرکز کے آغاز، ٹاسک فورس کی تشکیل یا پروگرام کی شرائط سے متعلق باضابطہ دستاویز آنے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔




