اسلام آباد: وفاقی حکومت نے تمام سابق واپڈا بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کا جامع تکنیکی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بجلی چوری، تکنیکی اور تجارتی نقصانات کے حقیقی حجم، بنیادی وجوہات اور مختلف علاقوں میں ان کے ارتکاز کا تعین کیا جا سکے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جو ڈسکوز میں نااہلی، بجلی چوری اور تقسیم کے نقصانات کم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔
ڈان کے مطابق اجلاس کی مشترکہ صدارت وزیر اقتصادی امور احد چیمہ اور وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کی۔ پاور ڈویژن، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں نے بجلی چوری، وصولیوں، تقسیم کے نقصانات اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق بریفنگ دی۔
فیصلے کے تحت وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی تکنیکی معاونت فراہم کرے گی اور آڈٹ کے لیے شفاف طریقۂ کار کی تشکیل میں مدد کرے گی۔ اہل تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اظہارِ دلچسپی جلد جاری کیا جائے گا جبکہ آڈٹ کے ٹرمز آف ریفرنس اگلے ہفتے تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اجلاس میں ایڈوانس میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ نجکاری کے لیے نشان زد ڈسکوز میں بھی جدید میٹروں کی تنصیب جاری رکھی جائے اور اسے تیز کیا جائے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ قابلِ اعتماد ڈیٹا اور خودکار میٹرنگ سے چوری، غیر معمولی کھپت اور بلنگ کی بے قاعدگیوں کی شناخت بہتر ہو سکتی ہے۔
کمیٹی کو پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے بعض زیادہ نقصان والے علاقوں میں شمسی توانائی پر مبنی آزمائشی منصوبوں کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ ان منصوبوں کا مقصد بجلی کے نیٹ ورک پر دباؤ کم کرنا اور ایسے علاقوں میں متبادل حل آزمانا ہے جہاں چوری اور لائن لاسز زیادہ ہیں۔
حکومتی وزرا نے کہا کہ بجلی چوری یا ڈسکوز کی انتظامی کمزوری کا بوجھ صارفین پر منتقل نہیں ہونا چاہیے اور اووربلنگ قابلِ قبول نہیں۔ تاہم تکنیکی آڈٹ ابھی شروع ہونا ہے، اس لیے چوری اور نقصانات کے حتمی حجم یا کسی مخصوص ڈسکو کی ذمہ داری کے بارے میں نتیجہ آڈٹ کی تکمیل سے پہلے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

