اسلام آباد: پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس، یعنی جی ایس پی پلس، کے تحت پاکستان کی ترجیحی تجارتی حیثیت نئے فریم ورک سے قبل تجدید کے مرحلے سے گزرے گی۔ ان کے مطابق نیا نظام 2028 میں شروع ہونا ہے اور مستفید ہونے والے ممالک کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق جرمن سفیر نے اسلام آباد میں میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ موسم سرما میں یورپی یونین کے مانیٹرنگ دورے کے بعد جولائی میں ایک رپورٹ شائع ہوئی، جس میں ان اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی جن میں پاکستان کو تعمیل سے متعلق کام آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان مطلوبہ اقدامات مکمل کرکے ترجیحی تجارتی رسائی برقرار رکھنے کے لیے مضبوط کیس پیش کرے گا۔

جی ایس پی پلس پاکستان کی برآمدی معیشت کے لیے اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے متعدد پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈی میں ترجیحی رسائی ملتی ہے۔ سفیر کے مطابق یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور جرمنی اس میں نمایاں حصہ رکھتا ہے۔ اس حیثیت کی تجدید محض خودکار توسیع نہیں ہوگی بلکہ نئے فریم ورک کے تحت دوبارہ درخواست اور متعلقہ شرائط پر پیش رفت اہم ہوگی۔

اینا لیپل نے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جرمنی اس پروگرام کی میرٹ کی بنیاد پر حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے حالیہ معاشی جھٹکوں کے بعد پاکستان کی معیشت میں لچک کی بعض مثبت علامات کی نشاندہی کی اور توقع ظاہر کی کہ آئی ایم ایف سے منسلک ساختی اصلاحات کی رفتار برقرار رہے گی۔

دوطرفہ تجارت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارت 2017 سے تقریباً 3.5 ارب یورو کے آس پاس رہی ہے اور اس میں محدود اضافہ ہوا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر سپلائی چینز کو متنوع بنانے کی کوششوں کے باعث جرمن کمپنیوں کی پاکستان میں دلچسپی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی بڑی صارف منڈی اور جغرافیائی محل وقوع کو ممکنہ کاروباری مواقع کے طور پر بیان کیا۔

سفیر نے آئندہ جرمن پاکستان بزنس فورم اور دبئی میں جرمن اماراتی مشترکہ چیمبر آف کامرس کے اندر قائم نئے پاکستان ڈیسک کا بھی ذکر کیا، جن کا مقصد کاروباری روابط کو سہولت دینا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں انہوں نے کہا کہ جرمنی میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کی تعداد 2017 کے تقریباً چھ ہزار سے بڑھ کر اب 13 ہزار ہو چکی ہے۔

جی ایس پی پلس کی تجدید کے حوالے سے حتمی فیصلہ یورپی یونین کے متعلقہ عمل اور پاکستان کی تعمیل کے جائزے سے وابستہ ہوگا۔ جرمن سفیر کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کو نئے فریم ورک کے آغاز سے پہلے ضروری اصلاحات اور شرائط پر قابلِ اعتماد پیش رفت دکھانا ہوگی تاکہ یورپی منڈی تک اپنی ترجیحی رسائی جاری رکھنے کی کوشش کامیاب ہو سکے۔