اسلام آباد: مالی سال 2026-27 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران خلیجی شراکت دار ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ سالانہ بنیاد پر 2.61 فیصد بڑھ کر 3.450 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ فرق 3.362 ارب ڈالر تھا۔

ڈان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کی بنیاد پر رپورٹ کیا کہ خطے کے ساتھ تجارت میں برآمدات میں بعض منڈیوں میں اضافہ ہوا، تاہم مجموعی درآمدی بل کی رفتار زیادہ رہنے سے تجارتی فرق وسیع ہوا۔ اردن کو برآمدات میں 34.7 فیصد، متحدہ عرب امارات کو 13.6 فیصد اور عمان کو 5.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے برعکس سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین کو پاکستانی برآمدات میں کمی دیکھی گئی۔

درآمدی جانب قطر سے خریداری میں 41.9 فیصد، کویت سے 27.6 فیصد، بحرین سے 39.4 فیصد اور سعودی عرب سے 14.7 فیصد اضافہ ہوا۔ پہلے دو ماہ میں متحدہ عرب امارات اور عمان سے درآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

سعودی عرب کے ساتھ تجارت میں پاکستانی برآمدات 1.7 فیصد کم ہوئیں جبکہ درآمدات 14.7 فیصد بڑھیں۔ رپورٹ کے مطابق اس اضافے میں تیل سمیت سعودی مصنوعات کی پاکستانی طلب کا کردار رہا، جس کے نتیجے میں دوطرفہ تجارتی خسارہ بڑھا۔

متحدہ عرب امارات کے معاملے میں صورت حال مختلف رہی۔ پاکستان کی برآمدات 13.6 فیصد بڑھیں، جبکہ درآمدات تقریباً ایک فیصد کم ہوئیں۔ ابوظبی، عجمان اور فجیرہ کی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات میں بہتری دیکھی گئی، جبکہ پیٹرولیم اور دیگر اشیا کی درآمدی آمد میں کمی نے دوطرفہ تجارتی عدم توازن کو محدود کیا۔

قطر کو برآمدات 16.5 فیصد کم ہوئیں جبکہ قطر سے درآمدات 41.9 فیصد بڑھ گئیں۔ توانائی سے متعلق خریداری میں اس تبدیلی نے قطر کے ساتھ تجارتی فرق بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

گزشتہ مکمل مالی سال 2025-26 میں خطے کو پاکستان کی برآمدات دو فیصد کم ہو کر 3.093 ارب ڈالر رہی تھیں، جبکہ خلیجی ممالک سے درآمدات چار فیصد کمی کے ساتھ 16.413 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئی تھیں۔ موجودہ مالی سال کے ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف خلیجی منڈیوں میں تجارت کا رجحان یکساں نہیں اور توانائی کی درآمدات مجموعی تجارتی توازن پر نمایاں اثر ڈال رہی ہیں۔