اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو زرعی شعبے کو خام اجناس کی برآمد تک محدود رکھنے کے بجائے اسے زیادہ قدر والی، پراسیس شدہ، سرٹیفائیڈ اور برانڈڈ مصنوعات کی برآمد کا انجن بنانا ہوگا۔ انہوں نے حکومت اور زرعی شعبے کے شراکت داروں پر زور دیا کہ اس مقصد کے لیے مشترکہ روڈ میپ تیار کیا جائے جس میں پیداوار سے لے کر پراسیسنگ، معیار، سرٹیفیکیشن، برانڈنگ اور عالمی منڈی تک رسائی کے مراحل واضح ہوں۔
وزیر منصوبہ بندی نے یہ بات “ان لاکنگ پاکستانز ہائی ویلیو ایکسپورٹ پوٹینشل” کے عنوان سے اسٹریٹجک ڈائیلاگ سیریز کے تیسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں، زرعی و انجینئرنگ جامعات، چیمبرز، تجارتی انجمنوں، سرٹیفیکیشن اداروں، برآمد کنندگان اور گوشت، پولٹری، ڈیری، چاول، کھجور، باغبانی، زیتون اور نامیاتی مصنوعات سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل نے بھی خام زرعی اجناس کے بجائے پراسیس شدہ اور بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے والی مصنوعات کی برآمد بڑھانے پر زور دیا۔ ان کے مطابق فوڈ پراسیسنگ، جدید پیکیجنگ، کولڈ چین انفراسٹرکچر اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشن پاکستانی زرعی و غذائی مصنوعات کی شیلف لائف، معیار اور مسابقت بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
سرکاری مؤقف کے مطابق پاکستان کے پاس وسیع زرعی بنیاد موجود ہے لیکن عالمی منڈی میں زیادہ آمدن حاصل کرنے کے لیے صرف حجم بڑھانا کافی نہیں ہوگا۔ برآمدی قدر بڑھانے کے لیے مصنوعات کی درجہ بندی، معیار کی مستقل نگرانی، ٹریس ایبلٹی، حفظان صحت کے معیارات، جدید پیکیجنگ اور مخصوص منڈیوں کی ضروریات کے مطابق مصنوعات تیار کرنا ضروری ہوگا۔ اس کے لیے وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، ریگولیٹرز اور نجی شعبے کے درمیان مربوط کام درکار ہے۔
اجلاس میں کسی حتمی پالیسی، مخصوص برآمدی ہدف یا مکمل ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے موجودہ پیش رفت کو روڈ میپ تیار کرنے کے پالیسی مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عملی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ حکومت کن مصنوعات اور منڈیوں کو ترجیح دیتی ہے، کولڈ چین اور پراسیسنگ میں سرمایہ کاری کیسے بڑھتی ہے اور چھوٹے کاشت کار و برآمد کنندگان سرٹیفیکیشن کی لاگت اور تقاضوں تک کس طرح رسائی حاصل کرتے ہیں۔
پاکستان کو زرعی برآمدات میں معیار، قیمت میں اتار چڑھاؤ اور ویلیو ایڈیشن کی محدود سطح جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مشترکہ روڈ میپ ان رکاوٹوں کی نشاندہی کے ساتھ ایسے اقدامات تجویز کرے گا جن سے زرعی پیداوار کا بڑا حصہ خام مال کے بجائے زیادہ قیمت والی تیار یا نیم تیار شکل میں عالمی منڈیوں تک پہنچ سکے۔




