وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور وسیع تر اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے دونوں جانب کی کاروباری برادریوں کے براہِ راست روابط مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات ہانگ کانگ جنرل چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر کہی، جہاں ان کی ملاقات چیمبر کے چیئرمین اور نمایاں کاروباری نمائندوں سے ہوئی۔
ملاقات میں پاکستان اور ہانگ کانگ کے نجی شعبوں کے درمیان باقاعدہ رابطے، تجارتی وفود کے تبادلے اور نئی کاروباری شراکت داریوں کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔ وزیر تجارت نے کہا کہ مسلسل مکالمہ دونوں منڈیوں کے کاروباری اداروں کو ایک دوسرے کی ضروریات، قواعد اور سرمایہ کاری کے مواقع بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق رسمی سرکاری رابطوں کے ساتھ نجی شعبے کی فعال شرکت اقتصادی تعلقات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے اہم ہے۔
جام کمال خان نے خاص طور پر مالیاتی خدمات، ہوا بازی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہانگ کانگ کی مہارت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان شعبوں میں تجربے، سرمایہ اور کاروباری نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جبکہ پاکستانی کمپنیاں اپنی مصنوعات اور خدمات کے لیے ہانگ کانگ کو علاقائی منڈیوں تک رسائی کے ایک اہم دروازے کے طور پر دیکھ سکتی ہیں۔ اس تعاون سے برآمدات میں تنوع، جدید کاروباری طریقوں کے فروغ اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی توسیع کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیر تجارت نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت رابطہ کاری اور ٹرانزٹ راستوں کی ترقی کے امکانات بھی اجاگر کیے۔ بہتر لاجسٹکس، مؤثر ترسیلی نظام اور علاقائی رابطوں میں اضافہ پاکستان کی تجارت کے لیے نئی سہولتیں پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم ان امکانات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے کاروباری سطح پر مسلسل فالو اپ، قابلِ عمل منصوبوں کی نشاندہی اور متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط کوششیں ضروری ہوں گی۔
دورے کے دوران جام کمال خان نے ہانگ کانگ میں مقیم پاکستانی برادری اور کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے میزبان معیشت میں پاکستانی تارکین وطن کے کردار کو سراہا اور ان پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی اقتصادی صلاحیت متعارف کرانے، سرمایہ کاری راغب کرنے اور دونوں منڈیوں کے درمیان قابلِ اعتماد کاروباری روابط قائم کرنے میں فعال کردار ادا کریں۔
اس پیش رفت کا فوری اثر آئندہ ہونے والی کاروباری ملاقاتوں، تجارتی وفود اور ممکنہ سرمایہ کاری تجاویز سے واضح ہوگا۔ اگر دونوں جانب کے ادارے مستقل رابطے اور مخصوص شعبہ جاتی منصوبوں پر پیش رفت کرتے ہیں تو پاکستان اور ہانگ کانگ کے اقتصادی تعلقات روایتی تجارت سے آگے بڑھ کر مالیات، ٹیکنالوجی، ہوا بازی اور علاقائی رابطہ کاری تک وسیع ہو سکتے ہیں۔




