کراچی: حکومت پاکستان نے گورنمنٹ آف پاکستان ہائبرڈ سکوک کی 30 ستمبر 2026 کو ہونے والی نیلامی میں مجموعی طور پر 119.538 ارب روپے کی فیس ویلیو جمع کی ہے۔ یہ نیلامی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے آکشن سسٹم کے ذریعے ہوئی اور اس کا سیٹلمنٹ یکم اکتوبر کو مقرر تھا۔ قبل از نیلامی مختلف مدتوں کے سکوک کے لیے مجموعی ہدف 300 ارب روپے رکھا گیا تھا۔

نیلامی میں تین ماہ، چھ ماہ اور ایک سال کے فکسڈ ریٹ ڈسکاؤنٹڈ ہائبرڈ سکوک کے تازہ اجرا کے علاوہ دس سالہ ویری ایبل رینٹل ریٹ ہائبرڈ سکوک کی پانچویں ری اوپننگ بھی شامل تھی۔ مختصر مدت کے تینوں آلات کے لیے 150 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا، جبکہ ان میں مجموعی طور پر 48.388 ارب روپے کی فیس ویلیو قبول کی گئی۔

مسابقتی بولیوں میں تین ماہ کے سکوک کے لیے 23.730 ارب روپے 11.9545 فیصد کٹ آف ییلڈ پر، چھ ماہ کے لیے 15.050 ارب روپے 12.25 فیصد ییلڈ پر اور ایک سال کے لیے 7.035 ارب روپے 12.4945 فیصد ییلڈ پر قبول کیے گئے۔ ان کے علاوہ 2.573 ارب روپے کی غیر مسابقتی بولیاں بھی منظور ہوئیں، جس سے مختصر مدت کے ڈسکاؤنٹڈ سکوک کی کل قبولیت 48.388 ارب روپے تک پہنچی۔

دس سالہ ویری ایبل رینٹل ریٹ سکوک کے لیے بھی قبل از نیلامی ہدف 150 ارب روپے تھا۔ اس حصے میں سرمایہ کاروں کی جانب سے 517.150 ارب روپے کی فیس ویلیو کی بولیاں موصول ہوئیں۔ حکومت نے ان میں سے 71.150 ارب روپے کی مسابقتی بولیاں 98.3229 کے کٹ آف پرائس اور 11.6754 فیصد کٹ آف ییلڈ پر قبول کیں۔ اس طویل مدتی آلے میں کوئی غیر مسابقتی بولی قبول نہیں کی گئی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرکاری نیلامی کیلنڈر میں 30 ستمبر کی تاریخ تین ماہ، چھ ماہ، ایک سال اور دس سالہ ہائبرڈ سکوک کے لیے درج تھی۔ سرکاری سکوک حکومت کو شریعہ کے مطابق قرض گیری کا ایک ذریعہ فراہم کرتے ہیں اور بینکوں، مالیاتی اداروں اور دیگر سرمایہ کاروں کو حکومتی ضمانت والے اسلامی مالیاتی آلات میں سرمایہ کاری کا موقع دیتے ہیں۔

نیلامی کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف مدتوں میں سرمایہ کاروں کی طلب یکساں نہیں رہی۔ خاص طور پر دس سالہ ویری ایبل رینٹل ریٹ سکوک میں موصول ہونے والی بولیاں مقررہ ہدف سے کہیں زیادہ تھیں، جبکہ مختصر مدت کے تازہ اجرا میں قبول شدہ رقم ہدف سے کم رہی۔ اس فرق سے مارکیٹ کی مدت، ییلڈ اور لیکویڈیٹی ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے، تاہم حتمی قرض گیری کی حکمت عملی حکومت کی مالی ضروریات اور لاگت کے انتظام سے جڑی رہتی ہے۔