اسلام آباد میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تیسرے جائزے کے لیے باقاعدہ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے دورہ کرنے والے مشن، جس کی قیادت ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں، کے ساتھ ورچوئل افتتاحی اجلاس کیا اور حکومت کی معاشی اصلاحات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس میں وزیر خزانہ نے حالیہ میکرو اکنامک پیش رفت، پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور سرمایہ کاری کے ماحول سے متعلق حکومتی مؤقف پیش کیا۔ رپورٹ کے مطابق مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب خطے میں طویل کشیدگی اور ایران سے متعلق تنازع توانائی کی قیمتوں، بیرونی مالی ضروریات، علاقائی تجارت اور ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔ حکومت نے فنڈ کو بتایا کہ بیرونی حالات کے باوجود طے شدہ ساختی اصلاحات کے نفاذ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

آئی ایم ایف مشن نے وزارت صنعت و پیداوار کے ساتھ مجوزہ نئی آٹو پالیسی پر بھی تفصیلی بات چیت کی۔ رپورٹ کے مطابق اس گفتگو میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے ممکنہ ٹیکس مراعات اور آٹوموٹیو شعبے سے متعلق مجوزہ ٹیکس اقدامات زیر غور آئے۔ یہ نکات اس لیے اہم ہیں کہ پروگرام جائزے میں محصولات، اخراجات، توانائی اور صنعتی پالیسی سے متعلق اہداف کی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے اور کسی بھی نئی رعایت یا ٹیکس تبدیلی کے مالی اثرات بھی دیکھے جاتے ہیں۔

بزنس ریکارڈر نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ دونوں جائزوں کی کامیاب تکمیل کی صورت میں اکتوبر کے آخر یا نومبر کے آغاز تک تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم جاری ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس میں اندازاً ایک ارب ڈالر ای ایف ایف اور تقریباً 20 کروڑ ڈالر آر ایس ایف کے تحت شامل ہوں گے۔ تاہم یہ رقم مذاکرات کی کامیاب تکمیل، آئی ایم ایف عملے کے جائزے اور متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہے، اس لیے اسے حتمی یا جاری شدہ رقم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

موجودہ جائزہ حکومت کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اسے مالی نظم، ٹیکس وصولیوں، توانائی اصلاحات اور دیگر طے شدہ پالیسی اقدامات پر پیش رفت دکھانا ہوگی۔ آئندہ دنوں میں تکنیکی سطح کی بات چیت کے ذریعے اہداف، تازہ معاشی اعداد و شمار اور پالیسی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔