پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) کے تیسرے جائزے کے لیے باضابطہ مذاکرات 28 ستمبر سے شروع ہو گئے ہیں۔ ڈان کے مطابق آئی ایم ایف مشن کی قیادت ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں اور ٹیم تقریباً دو ہفتے پاکستان میں قیام کرے گی، جبکہ بات چیت اکتوبر کے پہلے ہفتے تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

موجودہ جائزہ پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام میں مالیاتی اہداف، محصولات، توانائی شعبے کی اصلاحات، سرکاری اداروں کی کارکردگی، زرمبادلہ اور دیگر ساختی پالیسی اقدامات کا جائزہ لینے کا مرحلہ ہے۔ چوتھے EFF جائزے کے لیے بنیادی پیمائش جون 2026 تک کی کارکردگی اور طے شدہ شرائط پر عمل درآمد ہے۔ اسی کے ساتھ RSF کے تحت موسمیاتی لچک اور متعلقہ اصلاحاتی اقدامات کی پیش رفت بھی دیکھی جائے گی۔

آئی ایم ایف کے گزشتہ سرکاری پروگرام دستاویزات کے مطابق چوتھے EFF جائزے کی تکمیل پر پاکستان کے لیے تقریباً 760 ملین ایس ڈی آر کی قسط شیڈول تھی، جبکہ RSF کے تیسرے جائزے سے بھی اضافی فنڈز منسلک ہیں۔ مقامی حکام نے مجموعی ممکنہ رقم تقریباً 1.2 ارب ڈالر کے قریب بتائی ہے، تاہم یہ رقم صرف مذاکرات شروع ہونے سے خودکار طور پر جاری نہیں ہوتی۔ پہلے اسٹاف لیول اتفاق رائے درکار ہوگا اور اس کے بعد آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری ضروری ہوگی۔

حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان گفتگو میں مالیاتی خسارہ، بنیادی سرپلس، ٹیکس نیٹ میں توسیع، توانائی شعبے کے نقصانات، سرکاری ملکیتی اداروں کی اصلاحات اور سماجی تحفظ سمیت متعدد موضوعات شامل رہنے کی توقع ہے۔ حالیہ مہینوں میں عالمی توانائی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے پاکستان کے درآمدی بل، مہنگائی اور بیرونی مالیاتی ضروریات پر اضافی دباؤ پیدا کیا ہے، اس لیے مشن ان خارجی عوامل کے اثرات کا بھی جائزہ لے سکتا ہے۔

پاکستان کا موجودہ EFF انتظام ستمبر 2024 میں منظور ہوا تھا اور اس کا مقصد میکرو اکنامک استحکام، زرمبادلہ ذخائر کی بحالی، مالیاتی نظم، ٹیکس بنیاد میں اضافہ اور طویل مدتی نمو کے لیے ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔ مئی 2026 میں آئی ایم ایف بورڈ نے تیسرے EFF اور دوسرے RSF جائزے مکمل کیے تھے۔ موجودہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ بات چیت کے اختتام پر جاری ہونے والے سرکاری بیانات اور ممکنہ اسٹاف لیول معاہدے سے واضح ہوگا؛ اس مرحلے پر کسی نئی قسط کی منظوری کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔