اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے چوتھے جائزے سے متعلق مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے کراچی میں بات چیت کا آغاز کیا، جبکہ پروگرام کی شرائط کے ساتھ پاکستان کی معیشت کا وسیع تر جائزہ لینے کے لیے آرٹیکل IV مشاورت بھی اسی دورے میں جاری ہے۔
آئی ایم ایف کے سرکاری پروگرام دستاویزات کے مطابق چوتھا ای ایف ایف جائزہ جون 2026 کے اختتام تک طے کیے گئے مقداری اہداف، مسلسل کارکردگی کے معیار اور دیگر طے شدہ اقدامات کی تکمیل سے منسلک ہے۔ اسی دور میں ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت موسمیاتی اور معاشی لچک سے متعلق اصلاحات کا اگلا جائزہ بھی شیڈول ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ابتدائی بات چیت میں مالیاتی اور مانیٹری اشاریوں، بیرونی شعبے کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بعض مالی اور مانیٹری اہداف میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم تعلیم اور صحت پر اخراجات کے طے شدہ ہدف میں تقریباً 370 ارب روپے کی کمی اور بعض سرکاری اداروں کی اصلاحات کی رفتار جیسے معاملات بھی زیر بحث ہیں۔ یہ مخصوص اعداد اور تشخیص رپورٹ میں حکام سے منسوب ہیں؛ آئی ایم ایف نے اس مرحلے پر مذاکرات کے نتائج سے متعلق حتمی اعلامیہ جاری نہیں کیا۔
آرٹیکل IV مشاورت آئی ایم ایف کے رکن ملکوں کے ساتھ ہونے والا نسبتاً جامع معاشی جائزہ ہے جس میں ترقی، مہنگائی، مالیاتی پالیسی، بیرونی کھاتے، قرض اور ساختی اصلاحات سمیت وسیع موضوعات کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے آخری آرٹیکل IV ایگزیکٹو بورڈ مشاورت ستمبر 2024 میں مکمل ہوئی تھی۔
آئی ایم ایف کی اپریل 2026 کی پروگرام دستاویز کے مطابق ای ایف ایف کے چوتھے جائزے کی تکمیل کے لیے جون 2026 کے اختتامی اہداف کی جانچ ضروری ہے۔ جائزہ مکمل ہونے اور کسی ممکنہ قرض قسط کی منظوری کا فیصلہ مذاکرات، اسٹاف لیول معاہدے اور بعد ازاں آئی ایم ایف کے متعلقہ منظوری مراحل پر منحصر ہوگا؛ اس لیے مذاکرات کا آغاز خود بخود کسی نئی قسط کی منظوری کے مترادف نہیں ہے۔
