اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان جاری مالی پروگراموں کے اگلے جائزے کے لیے باضابطہ بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ آئی ایم ایف کا مشن ایوا پیٹرووا کی قیادت میں پاکستانی حکام کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام، یعنی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی، اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت پیش رفت کا جائزہ لے رہا ہے۔
مذاکرات میں پروگرام کے تحت طے شدہ معاشی اہداف، مالیاتی نظم، محصولات، توانائی کے شعبے اور دیگر اصلاحاتی اقدامات سے متعلق پیش رفت زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ جائزے کی کامیاب تکمیل آئی ایم ایف کے انتظامی اور ایگزیکٹو بورڈ کے متعلقہ مراحل کے بعد آئندہ رقوم کے اجرا کی راہ ہموار کر سکتی ہے، تاہم کسی بھی نئی قسط کا حتمی فیصلہ طے شدہ جائزہ اور منظوری کے عمل سے مشروط ہوگا۔
پاکستان گزشتہ دو برسوں سے معاشی استحکام، بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت اور مالیاتی توازن بہتر بنانے کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اقدامات کر رہا ہے۔ موجودہ جائزہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے توانائی، مال برداری اور عالمی مالی حالات سے متعلق نئے خطرات پیدا کیے ہیں۔ پاکستان تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے عالمی توانائی قیمتوں میں تبدیلی درآمدی بل اور مہنگائی پر اثر ڈال سکتی ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کا مقصد موسمیاتی خطرات اور طویل مدتی معاشی پائیداری سے متعلق اصلاحات کی معاونت کرنا ہے۔ پاکستان موسمیاتی آفات سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور حالیہ برسوں میں سیلاب، شدید گرمی اور غیر معمولی بارشوں نے بنیادی ڈھانچے اور زرعی پیداوار کو نقصان پہنچایا ہے۔
موجودہ مذاکرات کا آغاز ایک عمل کی ابتدا ہے، اس لیے اسے جائزے کی تکمیل یا نئی رقم کے اجرا کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ مذاکرات کے نتائج، طے پانے والی پالیسی سطح کی شرائط اور آئندہ مالی اجرا سے متعلق حتمی تفصیلات آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کی باضابطہ پیش رفت کے بعد واضح ہوں گی۔

