اسلام آباد: وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے درآمدی گاڑیوں کے ماحولیاتی، حفاظتی اور کوالٹی معیار سے متعلق موجودہ انتظام میں پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کے قانونی اختیارات کے ساتھ تداخل کی نشاندہی کرتے ہوئے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سے سابق فیصلوں پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ معیار سازی، ٹیسٹنگ، سرٹیفکیشن اور معائنہ کرنے والے اداروں کی رجسٹریشن کے بعض انتظامات ایک سے زیادہ اداروں کو دیے جانے سے ذمہ داریوں میں دہراؤ پیدا ہوا ہے۔
وزارت نے ای سی سی سے کہا کہ 24 ستمبر 2025 کے فیصلے کے متعلقہ حصوں کو دوبارہ دیکھا جائے، کیونکہ اس کے مطابق ماحولیاتی، حفاظتی اور معیار سے متعلق تقاضوں کی تشکیل اور جانچ کا بندوبست پی ایس کیو سی اے کے اس مینڈیٹ سے متصادم ہو سکتا ہے جو رولز آف بزنس 1973 اور پی ایس کیو سی اے ایکٹ 1996 کے تحت اسے حاصل ہے۔
تجویز میں وزارت تجارت کے جنوری 2026 اور ستمبر 2025 کے بعض ایس آر اوز کی شقوں میں ترمیم کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے مزید کہا کہ وزارت صنعت و پیداوار کو 30 ستمبر 2025 کا وہ نوٹیفکیشن واپس لینے کی ہدایت دی جائے جس کا تعلق درآمدی گاڑیوں کے لیے WP-29 کے تحت ماحولیاتی، حفاظتی اور معیار کے ضوابط اپنانے سے ہے۔
وزارت نے مارچ 2026 کے ایک انتظام پر بھی اعتراض کیا جس کے تحت گاڑیوں کی پری شپمنٹ انسپیکشن ایجنسیوں کی رجسٹریشن کے لیے پی ایس کیو سی اے کو انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت بتائی گئی تھی۔ وزارت کے مطابق پی ایس کیو سی اے ایکٹ کی متعلقہ شق اور دسمبر 2025 کے ایس آر او کے تحت معائنہ ایجنسیوں کی رجسٹریشن کا اختیار پہلے ہی پی ایس کیو سی اے کے پاس ہے۔
ای سی سی میں بحث کے دوران وزارت صنعت نے بتایا کہ وزیر موسمیاتی تبدیلی کی سربراہی میں ایک کمیٹی پہلے ہی معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے قائم کی جا چکی ہے۔ اس بنا پر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی سمری پر حتمی فیصلہ مؤخر کر دیا گیا اور متعلقہ وزارتوں سے آرا لینے کی ہدایت کی گئی۔ اس لیے فی الحال درآمدی گاڑیوں کے موجودہ معیار یا نوٹیفکیشنز خودکار طور پر منسوخ نہیں ہوئے ہیں۔
وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے ای سی سی کو بتایا کہ پی ایس کیو سی اے قومی معیار کا قانونی ادارہ ہے اور گاڑیوں سمیت مصنوعات کے معیار کی تشکیل، اپنانے، نوٹیفکیشن، مطابقت کی جانچ اور معیار کی نگرانی اس کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق پی ایس کیو سی اے بسوں، کاروں اور ٹریکٹروں سمیت آٹو موبائل شعبے کے مختلف معیار پر پہلے ہی کام کر چکا ہے۔ اب بین الوزارتی کمیٹی کی سفارشات اور متعلقہ وزارتوں کی آرا کے بعد ای سی سی کے سامنے معاملہ دوبارہ آنے کی توقع ہے۔
