پاکستان میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر اور پاکستان ٹوڈے کے مطابق وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 30 ستمبر 2026 تک 5,767,384 انکم ٹیکس ریٹرنز جمع ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی تاریخ تک یہ تعداد 3,980,692 تھی۔ یوں ایک سال میں تقریباً 17 لاکھ 90 ہزار اضافی گوشوارے جمع ہوئے اور مجموعی اضافہ قریب 45 فیصد بنتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اضافے کا بڑا حصہ غیر تنخواہ دار افراد سے آیا۔ تاجروں، دکانداروں، پیشہ ور افراد اور خود روزگار شہریوں کے گوشوارے 2.38 ملین سے بڑھ کر 3.81 ملین ہو گئے، یعنی اس طبقے میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے میں 1.43 ملین نئے یا اضافی غیر تنخواہ دار گوشوارے شامل تھے، جو مجموعی اضافے کے تقریباً چار پانچویں حصے کے برابر ہیں۔ تنخواہ دار افراد کے گوشوارے 22 فیصد بڑھ کر 1.9 ملین جبکہ ایسوسی ایشن آف پرسنز کے گوشوارے 33 فیصد بڑھ کر 53,756 تک پہنچے۔
تاہم زیادہ تعداد میں ریٹرنز جمع ہونے کے باوجود ان کے ساتھ ادا کیا گیا مجموعی ٹیکس کم ہوا۔ رپورٹ کے مطابق افراد کی جانب سے ریٹرنز کے ساتھ ادا کیا گیا ٹیکس 11 فیصد بڑھ کر 34.5 ارب روپے اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کی ادائیگی 16 فیصد بڑھ کر 3.7 ارب روپے ہوئی، مگر کمپنیوں کی جانب سے ادائیگی 49 ارب روپے سے کم ہو کر 39.1 ارب روپے رہ گئی۔ نتیجتاً 30 ستمبر تک ریٹرنز کے ساتھ ادا کیا گیا مجموعی ٹیکس تقریباً 7 فیصد کم ہو کر 77.3 ارب روپے رہا، جو گزشتہ سال 83.3 ارب روپے تھا۔
کمپنیوں کے گوشواروں کی تعداد بھی 11,206 سے گھٹ کر 7,953 رہ گئی۔ ایف بی آر حکام نے اس کمی کو بڑی حد تک فائلنگ کے وقت سے منسوب کیا اور کہا کہ متعدد کمپنیوں نے ممکنہ ڈیڈ لائن توسیع کے انتظار میں گوشوارے روک رکھے تھے۔ بعد میں فائلنگ کی آخری تاریخ بڑھا دی گئی، اس لیے حکام نے توقع ظاہر کی کہ کمپنی ریٹرنز اور ان کے ساتھ ٹیکس ادائیگی آنے والے دنوں میں بڑھے گی۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 39 فیصد جمع شدہ ریٹرنز نِل ریٹرنز تھے، یعنی ان میں قابلِ ادائیگی ٹیکس ظاہر نہیں کیا گیا۔ قابلِ ٹیکس حد سے زیادہ آمدن ظاہر کرنے والے گوشواروں کی تعداد 37 فیصد بڑھ کر تقریباً 2.5 ملین ہوئی۔ یہ اعداد ٹیکس فائلنگ کے دائرے میں توسیع کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتاتے ہیں کہ فائلرز کی تعداد میں اضافہ لازماً اسی تناسب سے فوری ٹیکس وصولی میں اضافے کا سبب نہیں بنتا۔

