پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت کے اس مؤقف کو مسترد کردیا ہے کہ جموں و کشمیر اس کا داخلی معاملہ ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی تیسری کمیٹی کے عمومی مباحثے میں پاکستانی نمائندے نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت اب بھی طے ہونا باقی ہے اور پاکستان اسے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع سمجھتا ہے۔

پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری سرفراز احمد گوہر نے نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نئی دہلی کی جانب سے جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ اور داخلی معاملہ قرار دینے کے مؤقف کو قبول نہیں کرتا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

پاکستانی نمائندے نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ ان قراردادوں کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔ انہوں نے نئی دہلی پر زور دیا کہ دیرینہ تنازع کے پرامن حل کی جانب پیش رفت کی جائے۔ یہ الزامات پاکستان کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں؛ بھارت طویل عرصے سے جموں و کشمیر کو اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا آیا ہے اور پاکستانی مؤقف سے اختلاف کرتا ہے۔

سرفراز احمد گوہر نے اپنے خطاب میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور امتیازی سلوک کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں کا حوالہ دیتے ہوئے مذہب کی بنیاد پر تشدد، نفرت انگیز تقاریر، امتیاز اور عبادت گاہوں پر حملوں کے بارے میں پاکستانی تحفظات بیان کیے۔ ان دعوؤں کو پاکستانی نمائندے کے الزامات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے اور ان کی الگ آزادانہ جانچ ضروری ہے۔

پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ اسلام آباد اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق مکالمے، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل پر قائم ہے۔ ان کے مطابق جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے دیرینہ تنازعات کو بات چیت اور بین الاقوامی قانونی فریم ورک کے اندر حل کرنا ضروری ہے۔

یہ سفارتی تبادلہ جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے 81ویں اجلاس کے کام کے آغاز کے موقع پر سامنے آیا۔ تیسری کمیٹی سماجی، انسانی اور ثقافتی امور سمیت انسانی حقوق سے متعلق موضوعات پر بحث کرتی ہے، جہاں رکن ممالک ایک دوسرے کے انسانی حقوق ریکارڈ اور علاقائی تنازعات سے متعلق مؤقف پیش کرتے ہیں۔

کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں سے بنیادی اختلافی موضوعات میں شامل ہے۔ دونوں ممالک اس خطے کے بارے میں متضاد قانونی اور سیاسی مؤقف رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں تازہ بیان اسی دیرینہ سفارتی تنازع کا تسلسل ہے اور اس سے کسی نئی دوطرفہ مفاہمت یا زمینی حیثیت میں تبدیلی کا اعلان نہیں ہوا۔