اسلام آباد: پاکستان میں صارف قیمتوں کے اشاریے سے ماپی جانے والی سالانہ مہنگائی ستمبر 2026 میں کم ہو کر 10.3 فیصد پر آگئی، جو اگست میں 11.1 فیصد تھی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق کمی کی بڑی وجہ خوراک کی مہنگائی میں نمایاں سست روی رہی، اگرچہ توانائی اور ٹرانسپورٹ سے متعلق اخراجات نے گھریلو بجٹ پر دباؤ برقرار رکھا۔
ستمبر میں ماہانہ بنیاد پر قیمتوں میں 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، اس لیے سالانہ شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ عمومی قیمتیں پچھلے مہینے سے کم ہوگئیں۔ گزشتہ سال ستمبر میں سالانہ مہنگائی 5.8 فیصد تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ شرح اب بھی ایک سال پہلے کے مقابلے میں بلند ہے۔ اگست 2026 میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سالانہ مہنگائی 11.1 فیصد تک پہنچی تھی، جبکہ جولائی میں یہ 9.2 فیصد تھی۔
اعدادوشمار کے مطابق دیہی علاقوں میں سالانہ مہنگائی اگست کے 12.2 فیصد سے کم ہو کر ستمبر میں 10.5 فیصد رہ گئی۔ شہری علاقوں میں یہ شرح 10.4 فیصد سے کم ہو کر 10.1 فیصد ہوئی۔ خوراک کی مہنگائی میں زیادہ نمایاں کمی دیکھی گئی: شہری علاقوں میں خوراک کی سالانہ مہنگائی 12.1 فیصد سے گھٹ کر 8.1 فیصد اور دیہی علاقوں میں 13.2 فیصد سے کم ہو کر 7.7 فیصد ہوگئی۔
اس کے برعکس غیر غذائی اشیا اور خدمات میں قیمتوں کا دباؤ بڑھا۔ شہری غیر غذائی مہنگائی 9.4 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد جبکہ دیہی غیر غذائی مہنگائی 11.3 فیصد سے بڑھ کر 13.1 فیصد ہوگئی۔ شہری علاقوں میں بجلی کے نرخ سالانہ بنیاد پر 15.28 فیصد اور موٹر فیول کی قیمتیں 10.76 فیصد زیادہ رہیں۔ ٹرانسپورٹ اخراجات ماہانہ بنیاد پر 5.75 فیصد بڑھے اور گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 27.43 فیصد بلند رہے۔
وزارت خزانہ نے ستمبر کے لیے مہنگائی کی شرح 10 سے 11 فیصد کے درمیان رہنے کا اندازہ دیا تھا، اور تازہ سرکاری اعدادوشمار اسی حد کے اندر آئے ہیں۔ اعدادوشمار سے مجموعی طور پر یہ تصویر سامنے آتی ہے کہ خوراک کی قیمتوں کی رفتار میں کمی نے ہیڈلائن مہنگائی کو نیچے لانے میں مدد دی، لیکن توانائی، نقل و حمل اور دیگر غیر غذائی اخراجات کے باعث گھرانوں کے اخراجات پر دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ آئندہ مہینوں میں عالمی تیل کی قیمتیں، توانائی کے مقامی نرخ اور خوراک کی رسد مہنگائی کے رجحان کے اہم عوامل رہیں گے۔
