وفاقی حکومت نے گلیشیئر مانیٹرنگ، موسمیاتی ڈیٹا، ابتدائی وارننگ، سیٹلائٹ معلومات اور قدرتی آفات سے متعلق اداروں کے درمیان ایک مربوط قومی نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ 22 ستمبر 2026 کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں کے پاس موجود معلومات کو خودکار اور بروقت انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے مشترکہ طریقہ کار درکار ہے۔

پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کے لیے وزارت دفاع کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور دستیاب معلومات کو یکجا کرنے کے لیے ایک ورچوئل پلیٹ فارم پہلے ہی تیار کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق گلیشیئر اور پانی سے متعلق امور وزارت آبی وسائل، برف باری اور گلیشیئر پگھلنے کی مانیٹرنگ کے آلات واپڈا، سیٹلائٹ ڈیٹا سپارکو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ این ڈی ایم اے کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں 115 ایسی گلیشیائی جھیلیں شناخت کی گئی ہیں جنہیں ممکنہ طور پر خطرناک سمجھا جاتا ہے، جن میں سے 105 کے بارے میں 5 اگست تک برف سے آزاد ہونے کی اطلاع دی گئی۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ گلیشیئر پگھلنے کی رفتار کے بارے میں مسلسل اور قابل اعتماد زمینی ڈیٹا حاصل کرنا مہنگا اور مشکل ہے، اسی لیے سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور دور دراز علاقوں میں نصب ٹاورز پر انحصار بڑھایا جا رہا ہے۔

مصدق ملک نے کہا کہ حکومت شہری موسم سے متعلق امور کے لیے ایک نئی اتھارٹی کے قیام پر بھی کام کر رہی ہے، جسے وزارت موسمیاتی تبدیلی کے تھنک ٹینک کے طور پر بھی استعمال کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے موسمیاتی خطرات کی بہتر ماڈلنگ کے لیے ڈیجیٹل ٹوئننگ اور ایک ڈیجیٹل لیبارٹری کی ضرورت کا ذکر کیا۔ یہ تجاویز ابھی حتمی منظوری کے مرحلے میں نہیں اور انہیں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جانا باقی ہے۔

اجلاس میں گلیشیئر پگھلنے اور سیلاب کو الگ نوعیت کے خطرات قرار دیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ان کے لیے مختلف ردعمل اور پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ مربوط ڈیٹا نظام کا بنیادی مقصد بروقت معلومات، بہتر پیش گوئی اور اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا بتایا گیا ہے؛ کسی نئی اتھارٹی یا ڈیجیٹل نظام کی مکمل ساخت اور نفاذ کی تاریخ تاحال جاری نہیں کی گئی۔