نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف اور کینیا کے صدر ولیم روٹو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی مرحلے کے موقع پر ملاقات میں پاکستان اور کینیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان کی سرکاری اطلاع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مجموعی دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور سیاسی، اقتصادی، تجارتی، دفاعی، تعلیمی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی گنجائش پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خاص طور پر دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں موجود غیر استعمال شدہ امکانات کی نشان دہی کی۔ انہوں نے ادویات سازی، ٹیکسٹائل، جراحی آلات اور زراعت کے شعبوں میں کاروباری روابط بڑھانے پر زور دیا اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان زیادہ براہ راست رابطوں کی ضرورت بیان کی۔ وزیراعظم نے کینیا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، خصوصاً خصوصی اقتصادی زونز، کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دی۔

سرکاری بیان کے مطابق پاکستان نے مشرقی افریقی کمیونٹی کے ساتھ اپنی شمولیت اور اقتصادی روابط بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پائیدار ترقی، بین الاقوامی امن و سلامتی اور دیگر علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کینیا کے صدر ولیم روٹو نے مغربی ایشیا اور خلیجی خطے کے حالیہ بحران میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کیا، جبکہ دونوں فریقوں نے اعلیٰ سطحی رابطوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ ادارہ جاتی فریم ورک کو زیادہ فعال بنایا جائے۔ اس ضمن میں دوطرفہ سیاسی مشاورت اور مشترکہ وزارتی کمیشن جیسے فورمز کو پاکستان اور کینیا کے درمیان پالیسی، تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اعلامیے میں کسی نئے تجارتی معاہدے، سرمایہ کاری کی مخصوص رقم یا فوری منصوبے کے آغاز کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو دونوں حکومتوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے سیاسی عزم اور مستقبل کے مذاکراتی فریم ورک کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس کی عملی پیش رفت آئندہ سرکاری ملاقاتوں اور طے شدہ ادارہ جاتی اقدامات سے واضح ہوگی۔