نیویارک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور کویت کے دیرینہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ حکومت پاکستان کی سرکاری اطلاع کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ روابط کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں دونوں جانب سے حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں کو مثبت قرار دیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان موجود سیاسی اور سفارتی روابط کو مختلف عملی شعبوں میں تعاون کے ذریعے مزید مؤثر بنایا جائے۔ سرکاری بیان میں ان تمام شعبوں کی تفصیلی فہرست جاری نہیں کی گئی، تاہم دونوں فریقوں نے مجموعی طور پر باہمی مفاد کے معاملات میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال سمیت علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مسائل کے حل اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ بات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کی سلامتی، تجارت اور سفارتی سرگرمیوں پر دباؤ برقرار ہے۔
پاکستان اور کویت کے درمیان تعلقات میں سفارتی روابط کے ساتھ روزگار، تجارت، سرمایہ کاری اور خلیجی خطے میں پاکستانی افرادی قوت سے جڑے معاملات بھی اہم رہے ہیں، تاہم 23 ستمبر کی اس ملاقات کے سرکاری اعلامیے میں کسی نئے معاہدے، سرمایہ کاری کی مخصوص رقم یا افرادی قوت سے متعلق نئی اسکیم کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس ملاقات کی بنیادی اہمیت سیاسی رابطہ برقرار رکھنے اور علاقائی امور پر مشاورت جاری رکھنے کے عزم میں ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں فریقوں نے موجودہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ آئندہ کسی مخصوص منصوبے یا معاہدے کی پیش رفت متعلقہ حکومتوں کے باضابطہ اعلانات سے واضح ہوگی۔

