اسلام آباد: پاکستان کی بڑی صنعتوں کی پیداوار نے مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ جولائی میں بحالی دکھائی اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) انڈیکس سالانہ بنیاد پر 3.03 فیصد بڑھ گیا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جون میں 3.48 فیصد سکڑاؤ کے بعد جولائی میں ماہانہ بنیاد پر پیداوار 9.5 فیصد بڑھی۔

کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ جولائی میں 119.13 رہا، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 115.62 تھا۔ مجموعی اضافے میں تمباکو، گارمنٹس، پٹرولیم مصنوعات، سیمنٹ، برقی آلات، آٹوموبائل، دیگر ٹرانسپورٹ آلات اور فرنیچر نے مثبت حصہ ڈالا۔ تاہم اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحالی تمام صنعتوں میں یکساں نہیں تھی۔ خوراک، مشروبات، ٹیکسٹائل، کیمیکلز، فارماسیوٹیکل، لوہا و فولاد اور مشینری کے بعض حصوں نے مجموعی نمو پر منفی اثر ڈالا۔

ٹیکسٹائل کی مجموعی پیداوار جولائی میں سالانہ 3.09 فیصد کم ہوئی۔ اس شعبے میں کاٹن یارن کی پیداوار 2.73 فیصد بڑھی جبکہ کاٹن کپڑے میں معمولی کمی ریکارڈ ہوئی۔ خوراک کے گروپ کی پیداوار 6.39 فیصد نیچے رہی، جبکہ کوکنگ آئل اور ویجیٹیبل گھی کی پیداوار میں بھی دو ہندسی کمی سامنے آئی۔ اس کے برعکس پٹرول کی پیداوار 11.56 فیصد بڑھی، ایل پی جی میں 9.86 فیصد اور مٹی کے تیل میں 43.10 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ہائی اسپیڈ ڈیزل اور فرنس آئل کی پیداوار کم ہوئی۔

آٹوموبائل شعبہ نمایاں مثبت شعبوں میں شامل رہا اور جولائی میں اس کی پیداوار سالانہ 57.01 فیصد بڑھی۔ جیپوں اور کاروں میں 57.19 فیصد، ٹرکوں میں 94.35 فیصد اور ہلکی کمرشل گاڑیوں میں 12.54 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بسوں کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب فارماسیوٹیکل پیداوار 20.79 فیصد، کھاد 4.71 فیصد اور لوہا و فولاد 11.40 فیصد کم ہوا۔

یہ اعداد و شمار ایک ایسے صنعتی منظرنامے کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں مجموعی انڈیکس مثبت ہوا ہے لیکن بحالی چند شعبوں میں زیادہ مرتکز ہے۔ ٹیکسٹائل اور فارما جیسے اہم شعبوں کی کمزور کارکردگی بتاتی ہے کہ جولائی کی مجموعی بہتری کو وسیع البنیاد صنعتی تیزی قرار دینے کے لیے مزید مہینوں کے اعداد و شمار درکار ہوں گے۔ مالی سال 2025-26 میں ایل ایس ایم نے مجموعی طور پر 4.98 فیصد سالانہ نمو دکھائی تھی، اس لیے نئے مالی سال کے آغاز میں جولائی کا مثبت نتیجہ صنعتی رفتار کے تسلسل کے لیے اہم ابتدائی اشارہ ہے۔