اسلام آباد: پاکستان میں مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ اگست 2026 کے دوران سالانہ بنیاد پر 14 فیصد کم ہو کر 1.66 ملین یونٹس رہ گئی، تاہم مقامی طور پر تیار اور اسمبل کیے گئے فونز نے اسی مہینے ملک کی تقریباً 95 فیصد طلب پوری کی۔ یہ اعداد و شمار پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے منسوب رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔
جولائی کے مقابلے میں اگست کی پیداوار میں 57 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ ریسرچ کے مطابق جولائی میں پیداوار غیر معمولی طور پر زیادہ تھی کیونکہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے پہلے بعض خریداروں نے خریداری مؤخر کر دی تھی اور بجٹ کے بعد طلب میں ایک وقتی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسی بلند بنیاد کے باعث اگست کی ماہانہ کمی زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔
اگست میں موبائل فون درآمدات بھی محدود رہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے تقریباً 80 ہزار موبائل فون درآمد کیے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 69 فیصد اور جولائی کے مقابلے میں 27 فیصد کم تھے۔ درآمدات میں اس کمی کے باعث مقامی طور پر تیار یا اسمبل کیے جانے والے فونز کا مجموعی دستیاب مارکیٹ میں حصہ بہت زیادہ برقرار رہا۔
سال کے پہلے آٹھ مہینوں، جنوری سے اگست 2026، کے دوران مقامی مینوفیکچررز اور اسمبلرز نے مجموعی طور پر 18.66 ملین موبائل فون تیار کیے۔ یہ تعداد 2025 کے اسی عرصے کے 19.77 ملین یونٹس سے تقریباً 6 فیصد کم ہے۔ اس آٹھ ماہ کی مدت میں مقامی فونز نے پاکستان کی تقریباً 87 فیصد موبائل طلب پوری کی۔
کمپنیوں کے لحاظ سے وی جی او ٹیل نے پہلے آٹھ ماہ میں 2.45 ملین یونٹس تیار کرکے سب سے زیادہ مقامی پیداوار ریکارڈ کی۔ انفنکس 1.96 ملین اور آئی ٹیل 1.56 ملین یونٹس کے ساتھ اگلی نمایاں کمپنیوں میں شامل رہیں۔ ٹیکنو نے 1.14 ملین، سام سنگ نے 1.01 ملین، جبکہ ویوو اور نوکیا نے تقریباً 9 لاکھ 70 ہزار یونٹس فی کمپنی تیار کیے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2026 میں مقامی موبائل فون پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن درآمدی تیار شدہ فونز کے مقابلے میں مقامی اسمبلنگ اب بھی پاکستانی مارکیٹ کا غالب ذریعہ ہے۔ اگست میں 95 فیصد طلب کا مقامی فونز سے پورا ہونا اس ساخت کی واضح مثال ہے۔
یہ رپورٹ پیداوار اور درآمد کے دستیاب اعداد و شمار پر مبنی ہے اور اسے موبائل مارکیٹ کی مجموعی مالی کارکردگی یا کمپنیوں کی آمدنی کا پیمانہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ فروخت، قیمتوں، ماڈل مکس اور صارفین کی ترجیحات جیسے عوامل الگ سے مارکیٹ کے حجم اور کاروباری نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
