اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مقامی مائع پٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی کی فروخت کے نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے سرکاری شعبے کی پیداواری کمپنیوں کی 10 فیصد پیداوار شفاف نیلامی کے ذریعے مارکیٹ میں پیش کرنے کی منظوری دی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایل پی جی کی تقسیم میں مسابقت بڑھانا، مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانا اور چھوٹے و درمیانے درجے کے خریداروں کو بھی براہ راست حصہ لینے کا موقع دینا ہے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت اجلاس میں نئی نیلامی اسکیم کی تفصیلات طے کی گئیں۔ اس کے تحت سرکاری شعبے کی ایل پی جی پیدا کرنے والی کمپنیاں اپنی مقامی پیداوار کا مقررہ حصہ کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کریں گی۔ نیلامی میں کم از کم لاٹ 20 ٹن یومیہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ صرف بڑے مارکیٹنگ ادارے ہی نہیں بلکہ نسبتاً چھوٹے خریدار بھی بولی کے عمل میں شریک ہو سکیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے مارکیٹ میں خریداروں کی تعداد بڑھے گی اور قیمت کے تعین میں زیادہ شفافیت پیدا ہوگی۔
ایل پی جی پاکستان کے ان علاقوں میں گھریلو اور تجارتی ایندھن کا اہم ذریعہ ہے جہاں پائپ لائن گیس دستیاب نہیں یا اس کی فراہمی محدود ہے۔ مقامی پیداوار کے ساتھ درآمدی ایل پی جی بھی ملکی طلب پوری کرنے میں کردار ادا کرتی ہے، اس لیے مقامی سپلائی کی فروخت کا طریقہ قیمت اور دستیابی دونوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ نئی اسکیم کا اصل نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ نیلامیوں میں کتنے خریدار شریک ہوتے ہیں، بولیوں کا عمل کس حد تک مسابقتی رہتا ہے اور پیداوار کی ترسیل کس طریقے سے کی جاتی ہے۔
حکومت نے اس اقدام کو ایل پی جی شعبے میں شفافیت اور منصفانہ مسابقت بڑھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ تاہم صارفین کے لیے حتمی قیمت صرف پیداواری کمپنیوں کی نیلامی سے طے نہیں ہوتی؛ نقل و حمل، مارکیٹنگ، درآمدی قیمت، ٹیکس اور تقسیم کے اخراجات بھی خوردہ نرخوں میں شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے 10 فیصد مقامی پیداوار کی نیلامی کو مارکیٹ اصلاحات کا ایک جزو سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ صارف قیمت میں فوری اور یقینی کمی کی ضمانت۔
