پاکستان نے ملائیشیا کو چاول کی برآمدات میں مزید 70 ہزار میٹرک ٹن اضافے کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ بزنس ریکارڈر اور پاکستان ٹوڈے کے مطابق وزیراعظم آفس نے بتایا کہ اضافی مقدار اکتوبر سے دسمبر 2026 کے دوران برآمد کی جائے گی اور اس پیش رفت کے لیے متعلقہ وزارتوں اور اداروں نے ملائیشین حکام کے ساتھ تجارتی اور سفارتی سطح پر رابطے کیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کو کسانوں اور قومی معیشت کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں اضافہ حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیر تجارت جام کمال خان اور متعلقہ وفاقی سیکریٹریز کی کوششوں کو سراہا۔ یہ بیانات سرکاری موقف ہیں اور انہیں اسی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے۔
اضافی 70 ہزار ٹن چاول کی برآمد ایسے وقت طے ہوئی ہے جب پاکستان اور ملائیشیا زرعی تجارت، حلال سرٹیفکیشن اور فوڈ سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی 27 ستمبر کی سرکاری تفصیل کے مطابق پاکستانی وفد نے کوالالمپور میں ملائیشیا کے قومی چاول ادارے BERNAS، حلال سرٹیفکیشن اتھارٹی JAKIM اور وزارتِ زراعت و فوڈ سیکیورٹی کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان مذاکرات میں پاکستانی چاول کی برآمدات بڑھانے، معیار کی شرائط پوری کرنے اور حلال مصنوعات کے لیے مارکیٹ رسائی بہتر بنانے پر بات ہوئی۔
سرکاری تفصیل کے مطابق دونوں ملکوں نے زرعی اور غذائی تجارت کے لیے ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنے اور نومبر میں مزید رابطہ اجلاس کے آغاز پر بھی اتفاق کیا تھا۔ پاکستان کی جانب سے چاول کے علاوہ گوشت، پولٹری، ماہی گیری، ویکسین، بائیو سیکیورٹی اور حلال جیلاٹن جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی تجاویز زیرِ بحث آئیں۔
تازہ اعلان کا بنیادی اور قابلِ تصدیق نکتہ اضافی 70 ہزار میٹرک ٹن چاول کی برآمد کے انتظامات ہیں۔ دستیاب رپورٹس میں اس اضافی مقدار کی مجموعی مالی مالیت یا فی ٹن قیمت نہیں بتائی گئی، اس لیے ایسے کسی تخمینے کو خبر کا تصدیق شدہ حصہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ عملی اثر برآمدی معاہدوں، شپمنٹ کے شیڈول، معیار کی منظوری اور مارکیٹ قیمتوں پر منحصر ہوگا۔

