اسلام آباد: قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں موبائل فون صارفین کی تعداد تقریباً 21 کروڑ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ملک کی ٹیلی ڈینسٹی 83 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ اعداد و شمار پارلیمانی سیکریٹری برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سبحین غوری نے ایوان کے وقفہ سوالات کے دوران پیش کیے۔
پارلیمانی سیکریٹری کے مطابق موبائل براڈ بینڈ استعمال کرنے والوں کی تعداد 16 کروڑ 17 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موبائل براڈ بینڈ کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے نتیجے میں صارفین کی ترجیحات روایتی فکسڈ براڈ بینڈ خدمات سے موبائل رابطے کی جانب منتقل ہوئی ہیں۔ یہ رجحان پاکستان میں ڈیجیٹل خدمات، آن لائن کاروبار، مالیاتی ٹیکنالوجی، تعلیم اور سرکاری خدمات تک موبائل کے ذریعے رسائی کی بڑھتی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔
سروس کے معیار سے متعلق سوالات پر سبحین غوری نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی نگرانی کرنے والی ٹیمیں موبائل نیٹ ورکس کے معیار کا باقاعدگی سے جائزہ لیتی ہیں۔ ان کے مطابق جہاں مسائل سامنے آتے ہیں وہاں سیلولر آپریٹرز کو خامیاں دور کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔
انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ 5G موبائل سروسز کے نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں نئی نسل کی ٹیلی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، اسپیکٹرم، نیٹ ورک سرمایہ کاری اور صارفین کے لیے قیمت و معیار کے توازن پر بحث جاری ہے۔
قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار صارفین کی مجموعی تعداد اور رابطے کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم نیٹ ورک کا عملی معیار مختلف علاقوں، آپریٹرز اور دستیاب انفراسٹرکچر کے لحاظ سے مختلف ہوسکتا ہے۔ حکومت اور ریگولیٹر کے لیے اگلا اہم مرحلہ صرف کنکشنز کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ تیز رفتار، قابل اعتماد اور قابل برداشت ڈیٹا سروس کو شہری و دیہی علاقوں میں یکساں طور پر بہتر بنانا بھی ہے۔
اسی اجلاس میں ایوان نے خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں انسداد دہشت گردی کارروائی کے دوران شہید ہونے والے چار پولیس اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

