اسلام آباد: وفاقی حکومت قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان کو ملک کے مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کے مرکزی فریم ورک کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ احد خان چیمہ نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ ڈیجیٹل گورننس، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل سوسائٹی کے تین بنیادی ستونوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔
اقتصادی امور ڈویژن کے سرکاری بیان کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے سرکاری اداروں میں قابل پیمائش نتائج سامنے آئیں۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو شعبہ وار منصوبوں میں عملی اہداف اور حقیقت پسندانہ مدتیں مقرر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں پرائمری اور مڈل سطح سمیت طلبہ کو جدید ڈیجیٹل اور اے آئی مہارتیں سکھانے کے لیے منظم روڈ میپ پر زور دیا گیا۔ صحت کے شعبے میں سرکاری اور نجی اسپتالوں کے لیے مریضوں کے یکساں ڈیجیٹل ریکارڈ اور رجسٹری کے تصور پر گفتگو ہوئی تاکہ طبی تاریخ اور علاج کی معلومات ضرورت کے وقت دستیاب ہوسکیں۔ ایسے نظام کے لیے ڈیٹا تحفظ، رسائی کے ضوابط اور مریض کی رازداری اہم عملی تقاضے ہوں گے۔
حکومت صوبائی آئی ٹی محکموں اور دیگر فریقوں کے ساتھ مشاورت بھی کر رہی ہے تاکہ قومی فریم ورک بناتے وقت صوبائی اختیارات کا احترام کیا جائے۔ احد چیمہ نے کہا کہ ماسٹر پلان کو صوبائی وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔
پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ تربیت پر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ سرکاری منصوبے کے اہداف وسیع ہیں، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار فنڈنگ، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا گورننس، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قابل عمل ٹائم لائن پر ہوگا۔ موجودہ پیش رفت پالیسی اور منصوبہ بندی کا مرحلہ ہے؛ ہر شعبے میں حتمی نفاذ کی تفصیلات الگ منصوبوں اور قواعد کے ذریعے سامنے آئیں گی۔

