اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن احد چیمہ نے کہا ہے کہ حکومت قومی ڈیجیٹل پلان کے اجرا کے لیے تیار ہے، جس کا مقصد سرکاری نظام، معیشت اور معاشرتی خدمات میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو ایک مربوط قومی فریم ورک کے تحت آگے بڑھانا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق مجوزہ پلان تین بنیادی ستونوں—ڈیجیٹل گورننس، ڈیجیٹل اکانومی اور ڈیجیٹل سوسائٹی—پر مشتمل ہوگا۔

ڈیجیٹل گورننس کے ستون کا تعلق سرکاری خدمات، انتظامی عمل اور ریاستی اداروں میں ٹیکنالوجی کے زیادہ منظم استعمال سے ہے۔ ایسے فریم ورک میں عام طور پر سرکاری ریکارڈ کی digitisation، اداروں کے درمیان data exchange، شہریوں کے لیے آن لائن خدمات اور فیصلوں کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا انفراسٹرکچر بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ حکومت نے ابھی ہر جزو کی تفصیلی implementation timeline عوامی طور پر واضح نہیں کی، اس لیے پلان کے عملی اثرات کا انحصار آئندہ جاری ہونے والی تفصیلات پر ہوگا۔

ڈیجیٹل معیشت کا ستون کاروبار، مالیاتی خدمات، ای کامرس، ٹیکنالوجی صنعت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں جیسے شعبوں میں ترقی کے لیے پالیسی ماحول بنانے سے متعلق ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا دائرہ پہلے ہی بڑھ رہا ہے، مگر کاروباری اداروں کے لیے قابلِ اعتماد connectivity، ڈیجیٹل شناخت، cyber security اور predictable regulation جیسے عوامل اس توسیع کے لیے اہم رہیں گے۔

تیسرا ستون، ڈیجیٹل سوسائٹی، شہریوں کی ٹیکنالوجی تک رسائی اور اسے مؤثر طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت سے جڑا ہے۔ اس میں ڈیجیٹل literacy، تعلیم، صحت اور دیگر عوامی خدمات میں ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے پہلو شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم کسی مخصوص پروگرام، بجٹ یا ہدف کو اس وقت تک حتمی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک حکومت قومی ڈیجیٹل پلان کی مکمل دستاویز اور نفاذ کا شیڈول جاری نہ کرے۔

احد چیمہ کے بیان سے یہ واضح ہے کہ حکومت مختلف شعبوں میں الگ الگ ڈیجیٹل منصوبوں کے بجائے ایک وسیع قومی سمت متعین کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح کے منصوبے کی کامیابی کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان interoperability، ڈیٹا کے تحفظ، سائبر سکیورٹی، procurement اور انسانی وسائل کی صلاحیت جیسے عملی معاملات اہم ہوں گے۔

قومی ڈیجیٹل پلان کے باضابطہ اجرا کے بعد اس کے قابلِ پیمائش اہداف، ذمہ دار اداروں، فنڈنگ اور مقررہ مدت کا جائزہ یہ طے کرنے میں مدد دے گا کہ اعلان کردہ تین ستون کس طرح حقیقی سرکاری خدمات اور معاشی سرگرمی میں تبدیل کیے جائیں گے۔ فی الحال حکومتی بیان اسے آئندہ شروع ہونے والے پالیسی فریم ورک کے طور پر پیش کرتا ہے۔