اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ پاکستان میں پانچویں نسل کی موبائل ٹیکنالوجی، یعنی 5G، کو ملک گیر سطح تک توسیع دینے کے لیے مزید تقریباً دو سال درکار ہوں گے۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی صبین غوری نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو آگاہ کیا کہ 5G خدمات فی الحال 24 شہروں میں دستیاب ہیں اور اضافی علاقوں تک پہنچنے سے پہلے موجودہ نیٹ ورک کی کارکردگی مضبوط بنانے پر کام جاری ہے۔

قومی اسمبلی میں یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب آصفہ بھٹو زرداری سمیت متعدد ارکان نے مختلف علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ کی کم رفتار، سگنل اور کوریج کے مسائل اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کے معیار سے متعلق سوالات اٹھائے۔ حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ نئی نسل کے نیٹ ورک کا دائرہ مرحلہ وار بڑھایا جائے گا اور ملک گیر دستیابی فوری طور پر ممکن نہیں ہوگی۔

5G کی توسیع صرف نئے موبائل سگنل کی فراہمی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مناسب ریڈیو اسپیکٹرم، فائبر بیک ہال، ٹاور انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور صارفین کے لیے موافق آلات کی دستیابی بھی ضروری ہوتی ہے۔ اسی لیے 24 شہروں میں ابتدائی دستیابی اور پورے ملک میں عملی کوریج دو مختلف مراحل ہیں۔

ایوان میں ارکان کی شکایات نے یہ بھی واضح کیا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ موجودہ 4G اور دیگر موبائل خدمات کے معیار کو بہتر بنانا ایک الگ چیلنج ہے۔ کمزور کوریج والے علاقوں میں صارفین کے لیے صرف 5G کا اعلان کافی نہیں ہوگا جب تک بنیادی نیٹ ورک، فائبر رابطہ اور سروس کوالٹی کے مسائل حل نہ ہوں۔

حکومت کی جانب سے دیا گیا دو سال کا عرصہ ایک توسیعی ہدف ہے، اسے ہر علاقے میں ایک ہی وقت مکمل کوریج کی ضمانت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ عملی پیش رفت کا انحصار اسپیکٹرم، ٹیلی کام آپریٹرز کی سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر رول آؤٹ اور ریگولیٹری اقدامات پر ہوگا۔