پاکستان نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے منصوبے کے تحت نو اداروں کو دسمبر 2027 تک نجی شعبے کے حوالے کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق نجکاری کمیشن نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو منصوبے اور ممکنہ خریداروں کے ساتھ جاری رابطوں کے بارے میں بریفنگ دی ہے۔ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی اس مجوزہ نجکاری پروگرام میں شامل نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی فروخت کا ارادہ ہے۔ حکومتی ٹائم لائن کے مطابق فیسکو کو جنوری، گیپکو کو فروری اور آئیسکو کو مارچ 2027 میں نجی شعبے کے حوالے کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ان کمپنیوں کے لیے due diligence کا عمل جاری بتایا گیا ہے۔

دوسرے مرحلے میں حیدرآباد اور سکھر کی تقسیم کار کمپنیوں کو اپریل سے جون 2027 کے درمیان نجکاری کے عمل سے گزارنے کا منصوبہ ہے، جبکہ پشاور، ہزارہ، لاہور اور ملتان کی کمپنیوں کے لیے دسمبر 2027 تک کی مدت رکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے مجموعی طور پر نو کمپنیوں کو چار مختلف بیچوں میں فروخت کرنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔

مالی پہلو اس منصوبے کا اہم حصہ ہیں۔ رپورٹ میں وزارت خزانہ کے سنٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے اعداد و شمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دس تقسیم کار کمپنیوں نے مالی سال 2025 میں 299 ارب روپے کے نقصانات کیے جبکہ 551 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ نجکاری کے مجوزہ ڈھانچے میں بعض زمین اور پنشن واجبات کو فروخت ہونے والی کمپنیوں کی بیلنس شیٹس سے الگ کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ گفتگو میں یکساں بجلی ٹیرف کی پالیسی اور نجکاری کے بعد بھی سرکاری مالی بوجھ کے امکان پر سوالات زیر بحث آئے۔ نجکاری کمیشن کے ترجمان نے اس تاثر سے اختلاف کیا کہ فنڈ کو مجوزہ ڈھانچے پر اعتراض ہے۔ اس لیے اس مرحلے پر یہ کہنا درست ہوگا کہ ٹائم لائن حکومتی ہدف ہے، مکمل شدہ فروخت نہیں۔ ہر کمپنی کی نجکاری حتمی بولی، منظوری اور معاہدے کے مراحل سے مشروط رہے گی۔