اسلام آباد: پاکستان میں زیتون کی کاشت کا قومی پروگرام 60 اضلاع تک پھیل گیا ہے اور پی ایس ڈی پی اولیو پراجیکٹ کے تحت 12 ہزار کسان اس سے وابستہ ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے سرکاری دستاویزات کے حوالے سے بتایا کہ وفاقی، صوبائی اور بین الاقوامی ترقیاتی پروگراموں کے تحت ملک بھر میں 75 لاکھ سے زیادہ زیتون کے درخت تقریباً 60 ہزار 400 ایکڑ رقبے پر لگائے جا چکے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق مجموعی درختوں میں سے تقریباً 50 لاکھ، یعنی 66 فیصد، پی ایس ڈی پی زیتون منصوبے کے تحت لگائے گئے ہیں۔ پانی کے مؤثر استعمال کے لیے 6,594 ایکڑ زیتون کے باغات میں پانی بچانے والے آبپاشی نظام بھی نصب کیے گئے۔ حکام کے مطابق پاکستان میں 40 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبہ زیتون کی ممکنہ کاشت کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے، جبکہ ملک میں جنگلی زیتون کے درخت بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
پروگرام کے تحت مختلف زرعی خطوں کے لیے زیتون کے کلسٹرز بنائے گئے اور 22 اقسام کو کاشت کے لیے منظور کیا گیا۔ پاکستان ابتدا میں بحیرہ روم کے ممالک سے پودے درآمد کرتا تھا، تاہم 2022 کے بعد مقامی سطح پر پودوں کی افزائش پر توجہ بڑھی ہے۔ سرکاری دستاویزات میں اسے زرمبادلہ کی بچت اور مقامی نرسری شعبے کی ترقی سے جوڑا گیا ہے۔
کاشت کے ساتھ پروسیسنگ انفراسٹرکچر بھی بڑھایا گیا ہے۔ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 51 زیتون آئل ایکسٹریکشن یونٹس نصب کیے گئے، جن میں 15 پی ایس ڈی پی منصوبے کے تحت قائم ہوئے۔ اس کے علاوہ پھلوں کی پروسیسنگ کے چھ یونٹس، قبل و بعد از برداشت استعمال کے 500 کٹس، نرسری ٹنلز، موسمی اسٹیشن اور زیتون کے تیل کے معیار کی جانچ کے لیے لیبارٹریاں بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔
دستاویزات کے مطابق باغات، نرسری مینجمنٹ، فصل کے بعد ہینڈلنگ، معیاری زرعی و مینوفیکچرنگ طریقوں، تیل نکالنے اور ویلیو ایڈیشن سے متعلق 276 تربیتی پروگراموں سے 17,986 افراد نے فائدہ اٹھایا۔ زیتون کے تیل، اچار، جام، کاسمیٹکس، صابن اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں 100 سے زیادہ کاروباری افراد کے فعال ہونے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔
حکومت نے زیتون کی قومی پالیسی اور ایکشن پلان بھی تیار کیا ہے۔ سرکاری اندازوں میں اس شعبے سے خوردنی تیل کی درآمدی ضرورت کم کرنے، زرعی آمدن بڑھانے اور خشک و نیم خشک علاقوں میں متبادل فصل فراہم کرنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم مستقبل کی معاشی قدر اور برآمدی امکانات کا انحصار پیداوار، معیار، مارکیٹ قیمتوں اور پالیسی پر مسلسل عملدرآمد پر ہوگا۔
