کراچی: پاکستان میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مجموعی فروخت مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 6 فیصد بڑھ کر 4.1 ملین ٹن ہوگئی۔ ستمبر میں کمپنیوں نے تقریباً 1.3 ملین ٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کیں، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 2 فیصد کم لیکن اگست کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ تھیں۔

ٹاپ لائن سکیورٹیز کے سلمان اقبال کے مطابق سہ ماہی فروخت میں اضافے کی بڑی وجہ فرنس آئل کی زیادہ کھپت رہی، جو بجلی پیدا کرنے کے ایندھن کے امتزاج میں تبدیلی سے منسلک تھی۔ ستمبر 2026 میں فرنس آئل کی فروخت 93 ہزار ٹن رہی، جو سالانہ بنیاد پر 601 فیصد زیادہ تھی۔ تجزیے کے مطابق ایل این جی کی قلت کے باعث بجلی کی پیداوار میں فرنس آئل کا استعمال بڑھا، اگرچہ اگست کے مقابلے میں اس کی فروخت 5 فیصد کم رہی جسے بجلی کی نسبتاً کم طلب سے جوڑا گیا۔

جولائی سے ستمبر کے دوران مجموعی فرنس آئل فروخت 270 ہزار ٹن ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 470 فیصد اضافہ ہے۔ یہ غیر معمولی اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بجلی کے شعبے میں ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں کی تبدیلی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مصنوعات کے مجموعی مکس پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

دوسری جانب موٹر فیولز کی تصویر مختلف رہی۔ ستمبر میں پیٹرول کی فروخت 652 ہزار ٹن رہی، جو سالانہ بنیاد پر 5 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 2 فیصد کم تھی۔ تاہم پہلی سہ ماہی میں پیٹرول کی مجموعی فروخت 4 فیصد بڑھ کر 2.046 ملین ٹن ہوگئی۔ ڈیزل کی ستمبر فروخت 525 ہزار ٹن رہی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 11 فیصد کم لیکن اگست کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ تھی۔ پہلی سہ ماہی میں ڈیزل کی فروخت 3 فیصد کمی کے ساتھ 1.571 ملین ٹن رہی۔

رپورٹ کے مطابق اوسط پیٹرول قیمت سالانہ بنیاد پر 42 فیصد بڑھ کر تقریباً 375 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت 48 فیصد اضافے سے تقریباً 401 روپے فی لیٹر رہی۔ قیمتوں میں اس بڑے فرق کے دوران مختلف مصنوعات کی طلب یکساں نہیں رہی، جس سے مجموعی فروخت کے اعداد و شمار میں فرنس آئل کا کردار زیادہ نمایاں ہوا۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی سہ ماہی فروخت میں مجموعی اضافہ توانائی کے شعبے کی بدلتی ضروریات کو ظاہر کرتا ہے، تاہم پیٹرول اور ڈیزل کی الگ الگ کارکردگی بتاتی ہے کہ صارف اور ٹرانسپورٹ ایندھن کی طلب پر بلند قیمتوں سمیت متعدد عوامل اثر انداز ہو رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں ایل این جی کی دستیابی، بجلی کی طلب اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فروخت کے رجحان کے لیے اہم رہیں گی۔