وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے روم میں اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کی عالمی کانفرنس میں ’ون ہیلتھ‘ طریقہ کار کو پاکستان کی غذائی سلامتی، لائیوسٹاک پیداوار، دیہی روزگار اور پائیدار زراعت کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ کانفرنس 21 سے 23 ستمبر تک ایگری فوڈ سسٹمز میں ون ہیلتھ کے عملی نفاذ پر مرکوز ہے۔

ون ہیلتھ کا بنیادی تصور انسانی صحت، جانوروں کی صحت، پودوں اور ماحول کے درمیان باہمی تعلق کو ایک مربوط فریم ورک میں دیکھنا ہے۔ زرعی اور غذائی نظام میں بیماریوں، خوراک کی حفاظت اور ماحولیاتی دباؤ جیسے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے مختلف محکموں اور شعبوں کے درمیان رابطے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔

رانا تنویر حسین نے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ عالمی وعدوں کو قومی سطح پر قابل عمل اقدامات میں تبدیل ہونا چاہیے اور اس کے لیے موثر رابطہ اور نفاذ ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان کی لائیوسٹاک معیشت میں چراگاہوں اور چرواہا برادریوں کے کردار کا بھی ذکر کیا۔

وزیر کے مطابق جانوروں کی صحت کی خدمات، پانی، چارے اور منڈیوں تک بہتر رسائی سے ان برادریوں کی معاشی حالت اور چراگاہوں کے پائیدار انتظام میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نکات پالیسی ترجیحات اور تجاویز ہیں؛ ان سے کسی نئے مخصوص بجٹ یا منصوبے کی حتمی منظوری اخذ نہیں کی جا رہی۔

روم کی کانفرنس میں مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے جانوروں اور پودوں کی بیماریوں، فوڈ سیفٹی، ماحول اور صحت عامہ سے متعلق مشترکہ چیلنجز پر گفتگو کر رہے ہیں۔ پاکستان کی شرکت اسی عالمی مباحثے کا حصہ ہے۔