وفاقی حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ ڈان کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 1 روپے 93 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 21 پیسے کمی کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 24 ستمبر 2026 سے ہوگا۔

پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق کمی کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 390 روپے 12 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 414 روپے 75 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر کے قریب ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔

حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں بلند سطح پر رہی ہیں۔ ڈان کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اپریل کے اوائل میں 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا، جبکہ پٹرول کی قیمت بھی اسی عرصے میں 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک گئی۔ اس کے بعد عالمی منڈی میں تبدیلیوں اور روزانہ قیمتوں کے تعین کے نئے طریقہ کار کے تحت نرخوں میں وقفے وقفے سے ردوبدل کیا جا رہا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی عام صارفین کے ساتھ ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے شعبے کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔ پٹرول بنیادی طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، بجلی پیدا کرنے والے بعض یونٹس اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی کا اثر نقل و حمل کی لاگت اور مختلف اشیا کی ترسیل پر بھی پڑ سکتا ہے۔

حکومت نے بلند عالمی تیل قیمتوں کے تناظر میں توانائی بچت کے اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں، جن میں بعض مارکیٹوں کے اوقات محدود کرنا اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں عارضی کمی شامل ہے۔ اس کے علاوہ موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے صارفین کے لیے ایک الگ ایندھن ریلیف اسکیم بھی اعلان کی جا چکی ہے۔

تازہ کمی عالمی خام تیل کی قیمتوں اور مقامی قیمت بندی کے موجودہ فارمولے کے مطابق کی گئی ہے۔ آئندہ دنوں میں عالمی منڈی، شرح مبادلہ اور سرکاری ٹیکس پالیسی پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے اہم تعین کنندہ رہیں گے۔