اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی تازہ قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول 1.54 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 2.16 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کے پیٹرولیم پرائسنگ میکنزم کے تحت ایکس ڈپو نرخوں پر نظرثانی کی ہے اور نئی قیمتوں کا اطلاق منگل 27 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔
تازہ فیصلے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 393.66 روپے سے بڑھ کر 395.82 روپے ہو گئی، جبکہ پیٹرول 377.71 روپے سے بڑھ کر 379.25 روپے فی لیٹر ہو گیا۔ یوں ڈیزل میں 2.16 روپے اور پیٹرول میں 1.54 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ نسبتاً مختصر وقفوں سے تبدیل کرتی رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوگرا نے قیمتوں میں تبدیلی کو عالمی منڈی کی پیش رفت سے منسلک کیا اور کہا کہ Platts نرخوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں تبدیلی نے نئی قیمتوں کی ضرورت پیدا کی۔ عالمی خام تیل کی قیمتیں بھی خطے میں کشیدگی اور رسد سے متعلق خدشات کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں، اس لیے مقامی قیمتوں پر بیرونی مارکیٹ کے اثرات برقرار ہیں۔
حکومت نے اس سے قبل 23 اکتوبر کو ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.91 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا جبکہ اس وقت پیٹرول کی قیمت برقرار رکھی گئی تھی۔ نئی نظرثانی اس سابقہ فیصلے کے چند روز بعد ہوئی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے اخراجات پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم کسی مخصوص شعبے یا اشیا کی قیمتوں پر اثر کی مقدار کا تعین الگ مارکیٹ عوامل سے ہوگا اور اس بارے میں سرکاری اعلامیے میں کوئی حتمی تخمینہ نہیں دیا گیا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے نرخ گھرانوں، نجی ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور سامان کی نقل و حمل کے اخراجات سے براہ راست جڑے ہوتے ہیں۔ موجودہ اضافہ محدود فی لیٹر مقدار میں ہے، لیکن مسلسل تبدیلیاں کاروباری لاگت اور صارفین کے بجٹ کی منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ آئندہ قیمتوں کا رخ عالمی خام تیل، درآمدی لاگت، پریمیم، فریٹ اور حکومت کے نافذ کردہ ٹیکس و لیوی ڈھانچے سمیت متعدد عوامل پر منحصر رہے گا۔
