وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نئی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے 2 اکتوبر کو جاری کردہ قیمتوں کے مطابق پیٹرول میں 2 روپے 10 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ اس ترمیم کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 392 روپے 76 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 399 روپے 64 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نرخ 3 اکتوبر سے 5 اکتوبر 2026 تک نافذ رہیں گے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ قیمتوں میں تازہ اضافہ ایسے وقت ہوا ہے جب عالمی توانائی منڈی مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور رسد کے خدشات کے باعث غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ پاکستان نے بھی رواں سال ایندھن کے نرخ طے کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی کی اور عالمی منڈی کی تیز تبدیلیوں کے باعث زیادہ بار قیمتیں ایڈجسٹ کرنے کا نظام اپنایا۔

حالیہ مہینوں میں ایندھن کی قیمتیں بلند سطح پر رہنے کے بعد کچھ کمی بھی دیکھی گئی تھی۔ ڈان کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح تک گیا تھا جبکہ پیٹرول اسی عرصے میں 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک پہنچا۔ تازہ نرخ ان چوٹیوں سے کم ہیں، تاہم دونوں اہم ایندھن اب بھی گھریلو نقل و حمل، مال برداری اور کاروباری لاگت پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔ پیٹرول بنیادی طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے جبکہ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، بجلی پیدا کرنے والے جنریٹرز اور دیگر تجارتی سرگرمیوں میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

حکومت نے بلند عالمی تیل قیمتوں کے اثرات محدود کرنے کے لیے ایندھن کی بچت اور ہدفی ریلیف کے اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔ ستمبر میں موٹر سائیکل، رکشا اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے صارفین کے لیے ایک ریلیف اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے آخر تک اس اسکیم میں لاکھوں رجسٹریشن اور ٹوکن ریڈیمپشن رپورٹ ہوئے۔ تاہم تازہ قیمتوں کا اعلان ایک الگ انتظامی فیصلہ ہے اور اس کے اثرات صارفین کی مجموعی لاگت، کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر مختلف ہو سکتے ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن کی ویب سائٹ پر 2 اکتوبر کی قیمتوں کا نوٹس درج ہے، جس سے نرخوں کی سرکاری تصدیق ہوتی ہے۔ آئندہ قیمتوں کا انحصار عالمی خام تیل، شرحِ مبادلہ، ٹیکس و لیوی اور حکومت کے روزانہ یا قلیل مدتی قیمت کے فارمولے پر ہوگا، اس لیے موجودہ نرخ صرف نوٹیفکیشن میں دی گئی مدت کے لیے قابلِ اطلاق ہیں۔