اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 سے نئے نرخ نافذ کر دیے ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں 14 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 1 روپے 89 پیسے فی لیٹر سستا ہوا ہے۔

نئے نرخوں کے تحت پٹرول 387 روپے 40 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 400 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس سے پہلے پٹرول 387 روپے 54 پیسے اور ڈیزل 402 روپے 24 پیسے فی لیٹر تھا۔ پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق قیمتوں میں یہ تبدیلی یکم اکتوبر سے مؤثر ہے۔

حکومت نے حالیہ مہینوں میں عالمی تیل منڈی میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے بعد ایندھن کے نرخوں کے تعین کا طریقہ بھی تبدیل کیا ہے۔ Geo News کے مطابق نئے فریم ورک میں اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ایکس ڈپو نرخ جاری کرتا ہے، جبکہ قیمت کے حساب میں گزشتہ سات دن کی بین الاقوامی مارکیٹ اوسط کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ جمعہ کو جاری ہونے والے نرخ ہفتہ اور اتوار کے لیے برقرار رہتے ہیں۔

ڈان کے مطابق حکومت پٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی مد میں مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال 3 اپریل کو پٹرول 458 روپے 41 پیسے اور ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچا تھا، جس کے بعد مختلف مراحل میں قیمتوں میں کمی آئی ہے۔

پٹرول کی قیمت میں تبدیلی کا براہِ راست اثر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی ٹرانسپورٹ کے صارفین پر پڑتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، صنعتی استعمال، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہونے کے باعث مال برداری اور عمومی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیزل کی معمولی تبدیلی بھی نقل و حمل کی مجموعی لاگت کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

حکومت نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں روزانہ قیمت طے کرنے کا نظام متعارف کرایا تھا۔ حکام کا موقف ہے کہ اس طریقہ کار سے عالمی منڈی میں کمی یا اضافے کو مقامی صارفین تک نسبتاً جلد منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یکم اکتوبر کے نرخ اسی روزانہ نظام کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔