وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے۔ ڈان کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 1.70 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 3.12 روپے کمی کی گئی، جس کے بعد پیٹرول 392.05 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 418.96 روپے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نرخ 23 ستمبر 2026 کے لیے نافذ کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں عالمی منڈی، مشرق وسطیٰ کی جنگی صورتحال اور رسد کے خدشات کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند سطح تک گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد ڈیزل کی قیمت 281 روپے فی لیٹر سے بڑھنا شروع ہوئی تھی۔ اسی طرح پیٹرول کی قیمت بھی مارچ کے پہلے ہفتے کے تقریباً 266 روپے فی لیٹر سے بڑھتے ہوئے 3 اپریل کو 458.41 روپے فی لیٹر تک پہنچی تھی۔
حکومت نے عالمی تیل منڈی میں تیزی اور علاقائی کشیدگی کے دوران ایندھن کے استعمال میں کمی کے لیے کفایت شعاری اقدامات بھی دوبارہ متعارف کرائے ہیں۔ ان اقدامات میں بازاروں کے لیے رات 9 بجے بندش اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی شامل ہے۔ 13 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ایک ریلیف اسکیم کا بھی اعلان کیا تھا۔
پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے جولائی میں کہا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیز رفتار تبدیلیوں کے باعث ملک میں ایندھن کی قیمتیں روزانہ بنیاد پر طے کی جائیں گی اور اوگرا کو اس عمل میں مرکزی کردار دیا جائے گا۔ پیٹرول کی قیمت میں تبدیلی کا اثر بالخصوص نجی ٹرانسپورٹ، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین پر پڑتا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمتیں بھاری ٹرانسپورٹ، بجلی پیدا کرنے والے یونٹس اور بڑی جنریٹر مارکیٹ کی لاگت کو متاثر کرتی ہیں۔
تازہ کمی کے باوجود دونوں اہم ایندھن کی قیمتیں سال کے آغاز کے مقابلے میں اب بھی بلند سطح پر ہیں۔ حکومت کے روزانہ نرخوں کے طریقہ کار کے باعث آنے والے دنوں میں عالمی خام تیل، شپنگ اور علاقائی صورتحال کے مطابق قیمتوں میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔

