وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی تازہ نظرثانی میں پٹرول کی قیمت 2 روپے 71 پیسے فی لیٹر کم کر دی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 22 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔
تازہ فیصلے کے بعد پٹرول کی نئی خوردہ قیمت 379 روپے 31 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 390 روپے 11 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ ڈان کے مطابق حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔
حالیہ مہینوں میں عالمی توانائی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ نے پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں پر براہ راست دباؤ ڈالا ہے۔ خام تیل کی عالمی قیمتوں، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور حکومتی محصولات میں تبدیلی مقامی قیمتوں کے تعین میں اہم عوامل ہیں۔ حکومت نے عالمی منڈی میں تیز رفتار تبدیلیوں کے تناظر میں قیمتوں کے جائزے کا طریقہ بھی زیادہ بار بار استعمال کیا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت اپریل کے اوائل میں 520 روپے فی لیٹر سے زیادہ کی بلند سطح تک پہنچ چکی تھی، جس کے بعد اس میں نمایاں کمی ہوئی۔ تاہم ڈیزل اب بھی ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور مال برداری کے لیے بنیادی ایندھن ہونے کے باعث مہنگائی اور پیداواری لاگت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں موجودہ کمی محدود ہے، لیکن روزمرہ سفر کرنے والے صارفین کو فی لیٹر معمولی ریلیف ملے گا۔
قیمتوں میں یہ تبدیلی کسی مستقل رجحان کی ضمانت نہیں، کیونکہ آئندہ نرخ عالمی خام تیل، علاقائی رسد اور حکومتی مالیاتی فیصلوں کے مطابق دوبارہ بدل سکتے ہیں۔ صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے اصل اثر اس بات سے واضح ہوگا کہ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی تیل کی قیمتیں اور پاکستان کی درآمدی لاگت کس سمت جاتی ہے۔
