اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 22 ستمبر 2026 کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نئی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول مہنگا اور ہائی اسپیڈ ڈیزل سستا کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 61 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی ایکس ڈپو قیمت 393 روپے 75 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی۔ اس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 96 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی اور نئی قیمت 422 روپے 08 پیسے فی لیٹر طے پائی۔

پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق اس سے پہلے پیٹرول کی قیمت 389 روپے 14 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 424 روپے 04 پیسے فی لیٹر تھی۔ حکومتی دستاویز میں قیمتوں میں تبدیلی کو بین الاقوامی منڈی میں ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں اتار چڑھاؤ سے جوڑا گیا ہے۔ اوگرا نے وفاقی حکومت کے موجودہ پیٹرولیم پرائسنگ طریقہ کار کے تحت نئی شرحوں کا حساب کیا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق تازہ حساب میں پیٹرول کی درآمدی لاگت بڑھ کر 283 روپے 19 پیسے فی لیٹر ہوئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمدی لاگت کم ہو کر 315 روپے 17 پیسے فی لیٹر رہ گئی۔ رپورٹ کے مطابق دونوں مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر برقرار ہے، جبکہ ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مقررہ مارجن میں بھی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی۔

قیمتوں میں یہ ردوبدل ایسے وقت کیا گیا ہے جب عالمی تیل منڈی مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، سپلائی کے خدشات اور روزانہ بدلتے بین الاقوامی ریفرنس نرخوں کے باعث غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں تبدیلی مقامی نرخوں پر تیزی سے اثر ڈال سکتی ہے۔

نئے نرخ 22 ستمبر کے لیے نافذ کیے گئے ہیں۔ صارفین کے لیے فوری اثر یہ ہے کہ نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہونے والا پیٹرول مزید مہنگا ہو گیا، جبکہ ٹرانسپورٹ، زراعت اور مال برداری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں معمولی کمی ہوئی ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کسی اضافی ٹیکس یا لیوی میں نئی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا۔