کراچی: پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی فروخت ستمبر 2026 میں سالانہ بنیاد پر 2 فیصد کم ہو کر تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار ٹن رہ گئی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس کمی کی بنیادی وجہ ہائی اسپیڈ ڈیزل اور موٹر اسپرٹ، یعنی پٹرول، کی فروخت میں کمی تھی۔ فرنس آئل کو نکال دیا جائے تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مجموعی فروخت سالانہ بنیاد پر 8 فیصد کم ہو کر 12 لاکھ 50 ہزار ٹن رہی۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر میں فرنس آئل کی فروخت 93 ہزار ٹن رہی، جو ایک سال پہلے کے 13 ہزار ٹن کے مقابلے میں 601 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت 11 فیصد کم ہو کر 5 لاکھ 25 ہزار ٹن، جبکہ موٹر اسپرٹ کی فروخت 5 فیصد کم ہو کر 6 لاکھ 52 ہزار ٹن رہی۔ دیگر پٹرولیم مصنوعات کی فروخت بھی 8 فیصد کم ہو کر 76 ہزار ٹن ریکارڈ کی گئی۔
ماہانہ بنیاد پر مجموعی پٹرولیم فروخت میں 7 فیصد اضافہ ہوا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت اگست کے مقابلے میں 25 فیصد بڑھی، جسے رپورٹ میں موسمی عوامل سے جوڑا گیا، جبکہ موٹر اسپرٹ کی فروخت 2 فیصد اور فرنس آئل کی فروخت 5 فیصد کم ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سالانہ اور ماہانہ رجحانات ایک دوسرے سے مختلف رہے اور ستمبر کے اندر ڈیزل کی طلب میں کچھ بحالی دیکھی گئی۔
رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی او ایم سی فروخت 6 فیصد بڑھ کر 41 لاکھ 20 ہزار ٹن رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 38 لاکھ 90 ہزار ٹن تھی۔ تاہم فرنس آئل کو الگ رکھنے پر پہلی سہ ماہی کی فروخت تقریباً 38 لاکھ 50 ہزار ٹن پر سالانہ بنیاد پر تقریباً بغیر تبدیلی کے رہی۔
کمپنی وار اعداد و شمار میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی ستمبر فروخت 12 فیصد بڑھ کر 6 لاکھ 39 ہزار ٹن رہی۔ اٹک پٹرولیم کی فروخت 1 لاکھ 16 ہزار ٹن کے ساتھ تقریباً مستحکم رہی، وافی انرجی پاکستان کی فروخت 6 فیصد کم ہو کر 1 لاکھ 10 ہزار ٹن اور ہیسکول کی فروخت 14 فیصد کم ہو کر 37 ہزار ٹن رہی۔
پٹرولیم مصنوعات کی طلب صنعتی سرگرمی، زرعی سیزن، ٹرانسپورٹ کے استعمال، قیمتوں اور مجموعی معاشی حالات سے متاثر ہوتی ہے۔ ستمبر کے اعداد و شمار میں فرنس آئل کے غیر معمولی اضافے کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی سالانہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صارف اور نقل و حمل سے جڑی طلب پر دباؤ برقرار ہے۔ آنے والے مہینوں میں عالمی تیل کی قیمتیں، مقامی قیمتوں میں تبدیلی اور معاشی سرگرمی فروخت کے رجحان کے اہم عوامل رہیں گے۔

