اسلام آباد: وزارت خزانہ کے ڈیٹ مینجمنٹ آفس کی سالانہ قرض رپورٹ کے مطابق جون 2026 کے اختتام تک پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض تقریباً 86.72 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 7.7 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قرض میں اضافے کے باوجود قرض سے مجموعی قومی پیداوار کا تناسب 70.6 فیصد سے کم ہو کر 68.3 فیصد ہو گیا۔
مالی سال 2025-26 کے دوران اندرونی قرض 9 فیصد بڑھ کر 59.441 کھرب روپے تک پہنچا، جبکہ بیرونی سرکاری قرض 6.8 فیصد اضافے کے ساتھ 98.075 ارب ڈالر رہا۔ ڈالر میں مجموعی سرکاری قرض کا حجم تقریباً 312 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق قرض کی رفتار میں پچھلے سال کے مقابلے میں کمی مالیاتی استحکام، وفاقی پرائمری سرپلس اور سودی اخراجات میں کمی سے منسلک رہی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران سود کی ادائیگی پر اخراجات 8.887 کھرب روپے سے کم ہو کر 6.948 کھرب روپے رہے، یعنی تقریباً 22 فیصد کمی ہوئی۔ وفاقی مالیاتی خسارہ بھی 7.089 کھرب روپے سے کم ہو کر 4.763 کھرب روپے رہا، جبکہ پرائمری سرپلس 1.798 کھرب روپے سے بڑھ کر 2.185 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔
حکومت نے وفاقی خسارے کی تقریباً 75 فیصد مالی اعانت اندرونی ذرائع اور 25 فیصد بیرونی ذرائع سے کی۔ اندرونی قرض کے ڈھانچے میں مارکیٹ ٹریژری بلز کا حجم 25 فیصد بڑھ کر 10.928 کھرب روپے ہو گیا، جبکہ سکوک اور بیع مؤجل فنانسنگ 35 فیصد بڑھ کر 8.559 کھرب روپے تک پہنچی۔ کمرشل بینک حکومتی سیکیورٹیز کے سب سے بڑے ہولڈر رہے اور اندرونی قرض میں ان کا حصہ 64 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گیا۔
بیرونی قرض کے معاملے میں درمیانی اور طویل مدت کے قرض کا حصہ 76 فیصد سے بڑھ کر 84 فیصد ہوا، جبکہ قلیل مدت کے بیرونی قرض کا حصہ 24 فیصد سے کم ہو کر 16 فیصد رہ گیا۔ رپورٹ کے مطابق کثیرالجہتی ادارے بیرونی قرض کے سب سے بڑے فراہم کنندہ رہے، جبکہ دوطرفہ قرض دہندگان دوسرے نمبر پر تھے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے واجبات جون 2026 تک تقریباً 11.05 ارب ڈالر رہے۔
مالی سال 2026 میں پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں بھی واپسی کی اور اپریل میں 750 ملین ڈالر کا یورو بانڈ اور مئی میں 1.75 ارب چینی یوان کا پانڈا بانڈ جاری کیا۔ حکومت نے اس دوران اسٹیٹ بینک کے 1.926 کھرب روپے کے قرض کی ادائیگی اور تقریباً 996 ارب روپے کے مارکیٹ قرض کی بائی بیک کارروائیاں بھی کیں۔
رپورٹ کی اہم تصویر یہ ہے کہ قرض کا مطلق حجم بڑھا ہے، لیکن معیشت کے حجم کے تناسب سے بوجھ میں کچھ کمی آئی ہے۔ آئندہ مالی سال میں قرض کے پائیدار انتظام کا انحصار مالیاتی خسارے، شرح سود، شرح مبادلہ، بیرونی فنانسنگ کی دستیابی اور سرکاری آمدن کی رفتار پر ہوگا۔

