لاہور: پاکستان ریلوے نے مال برداری کی صلاحیت اور آمدن بڑھانے کے لیے جنوری تک 14 فریٹ ٹرینیں چلانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ خانیوال میں ڈرائی پورٹ کے قیام کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ فیصلے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی زیر صدارت ریلوے ہیڈکوارٹرز لاہور میں ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیے گئے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق کاروباری برادری کی ضروریات اور ریلوے کے فریٹ حصے کو وسعت دینے کے مقصد سے مال گاڑیوں کی تعداد بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 14 فریٹ ٹرینوں کا ہدف مال برداری کی گنجائش میں اضافے کے ساتھ پاکستان ریلوے کے لیے اضافی آمدن پیدا کرنے میں مدد دے گا۔ خانیوال میں مجوزہ ڈرائی پورٹ کو کارگو ہینڈلنگ بہتر بنانے، نئے فریٹ کاروبار کو متوجہ کرنے اور ریونیو کے ذرائع وسیع کرنے کے منصوبے سے جوڑا گیا ہے۔
اجلاس میں آپریشنل حفاظت اور جواب دہی سے متعلق بھی متعدد فیصلے کیے گئے۔ وفاقی وزیر نے مکینیکل خرابیوں کے باعث ہونے والے ٹرین حادثات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے غفلت کے ذمہ دار پائے جانے والے ٹرین ایگزامینرز کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے انکوائری شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ انکوائریاں ذمہ داری کے تعین کے قانونی اور انتظامی عمل کا حصہ ہوں گی اور محض انکوائری کا آغاز کسی فرد کے قصوروار ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔
اوورلوڈنگ روکنے اور مقررہ وزن کی پابندی یقینی بنانے کے لیے 31 دسمبر تک ملک کے مختلف مقامات پر پانچ اضافی ویٹ برج نصب کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کرتے ہوئے ریلوے ہیڈکوارٹرز میں آپریشنل اجلاس بند کر کے انہیں ڈویژنل سطح پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ نگرانی اور فیصلوں کو مقامی آپریشن کے قریب لایا جا سکے۔
اجلاس میں ڈی وی ایم اور ڈی وی ایس کوچز کو مرحلہ وار نظام سے نکالنے، سلیپر فیکٹریوں میں دو شفٹوں میں کام کرانے اور لوکوموٹیوز و مسافر کوچز کے پرزہ جات کی خریداری میں تاخیر دور کرنے کی ہدایات بھی شامل تھیں۔ الگ ملاقات میں حنیف عباسی اور پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے صوبے میں برانچ ریلوے لائنوں کی بحالی پر بات کی، جس پر مطلوبہ فنڈز کے اجرا کی یقین دہانی کرائی گئی۔
