لاہور: پاکستان ریلوے نے بادامی باغ میں 125 کمرشل گوداموں کی نیلامی کے بعد سالانہ لیز آمدن میں نمایاں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق ان اثاثوں سے سالانہ لیز آمدن پہلے 7 کروڑ 22 لاکھ روپے تھی، جو نئی نیلامی کے نتیجے میں بڑھ کر 33 کروڑ 10 لاکھ 80 ہزار روپے ہو گئی۔ حکام نے اس اضافے کو 358.6 فیصد قرار دیا ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق سالانہ لیز رقم کے علاوہ پاکستان ریلوے کو ایک سال کے برابر 27 کروڑ 77 لاکھ 20 ہزار روپے بطور سکیورٹی ڈپازٹ بھی موصول ہوں گے۔ اس طرح پہلے سال میں سالانہ لیز ادائیگی اور سکیورٹی رقم کو ملا کر مجموعی وصولی 60 کروڑ 88 لاکھ روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے سال کے مقابلے میں پہلے سال کی مجموعی کیش فلو میں 743.5 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

یہ نیلامی پاکستان ریلوے کے ان اقدامات کا حصہ ہے جن کے تحت ادارہ اپنی غیر آپریشنل یا تجارتی نوعیت کی جائیدادوں سے زیادہ منظم آمدن حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بادامی باغ لاہور کا ایک بڑا تجارتی اور گوداموں والا علاقہ ہے، جہاں ریلوے کی ملکیتی املاک طویل عرصے سے کاروباری استعمال میں رہی ہیں۔ نئی نیلامی میں 125 گودام شامل کیے گئے، جس سے ادارے کے مطابق سابقہ لیز انتظام کے مقابلے میں زیادہ سالانہ آمدن طے ہوئی۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے اثاثوں کے شفاف استعمال اور قومی خزانے کے مفاد کو حکومت کی ترجیحات میں شامل رکھا گیا ہے۔ انہوں نے نیلامی کے انتظامی عمل پر ریلوے حکام کو سراہا۔ دستیاب رپورٹ میں ہر گودام کے انفرادی کرایے، لیز کی مدت یا بولی دہندگان کی تفصیل شامل نہیں، اس لیے مجموعی اعداد کو اسی حد تک دیکھا جانا چاہیے جو حکام نے جاری کیے ہیں۔

مالی اعتبار سے 33 کروڑ روپے سے زائد کی سالانہ لیز آمدن ریلوے کے لیے مستقل نوعیت کی آمدن ہے، جبکہ سکیورٹی ڈپازٹ ایک الگ پیشگی رقم ہے۔ اسی وجہ سے پہلے سال کی مجموعی وصولی کو مستقل سالانہ آمدن کے برابر سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ آئندہ برسوں میں اصل مالی فائدہ لیز شرائط، ادائیگیوں کی باقاعدگی اور اثاثوں کے انتظام پر منحصر رہے گا۔

پاکستان ریلوے ایک عرصے سے مسافر اور مال بردار آپریشنز کے ساتھ اپنی زمین اور کمرشل اثاثوں سے غیر کرایہ آمدن بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بادامی باغ کی نیلامی اس حکمت عملی کی ایک مثال ہے، تاہم اس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ سالانہ وصولیوں، معاہدوں پر عمل درآمد اور مزید اثاثوں کی شفاف نیلامی کے نتائج سے ہی ممکن ہوگا۔