پاکستان ریلوے نے اپنی بعض مسافر سروسز کے انتظام میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے منصوبے کے تحت اکتوبر 2026 میں چار ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ پیش رفت لاہور میں وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سامنے آئی، جہاں ادارے کی کارکردگی اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ چار ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ رواں ماہ کی جائے گی۔ دستیاب رپورٹ میں ان چاروں ٹرینوں کے نام یا مجوزہ نجی آپریٹرز کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس مرحلے پر کسی مخصوص کمپنی یا معاہدے کے حتمی ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ آؤٹ سورسنگ کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان ریلوے آمدن، سروس کے معیار اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مختلف انتظامی اقدامات پر کام کر رہا ہے۔
وزیر ریلوے نے اجلاس میں سکیورٹی انتظامات مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ریلوے کی تمام ورکشاپس اور یارڈز میں جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور نجی سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کی ہدایت کی۔ یہ اقدامات ریلوے تنصیبات، آلات اور دیگر اثاثوں کی نگرانی بہتر بنانے کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس کا بنیادی محور پاکستان ریلوے کی مجموعی کارکردگی اور مختلف انتظامی معاملات تھے۔ چار ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کی اطلاع اسی جائزے کے دوران دی گئی۔ تاہم آؤٹ سورسنگ کے مالی ماڈل، بولی کے طریقہ کار، معاہدوں کی مدت اور مسافروں کے کرایوں یا سہولتوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں رپورٹ میں تفصیلی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔
نجی شعبے کو آپریشن میں شامل کرنے کے کسی بھی منصوبے کی عملی کامیابی کا انحصار معاہدوں کی شرائط، سروس معیار کی نگرانی اور مسافروں کے مفاد کے تحفظ پر ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ ریلوے حکام نے چار ٹرینوں کو اکتوبر میں آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ اجلاس میں پیش کیا اور وزیر نے ادارے کی تنصیبات کے لیے اضافی سکیورٹی اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ مزید تفصیلات باضابطہ معاہدوں یا پاکستان ریلوے کی آئندہ معلومات کے بعد واضح ہوں گی۔
